Al-Risala · August 1979 · page 15

وہ اپنے خلاف تنقید سن کر بھپر اٹھا

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

وہ اپنے خلاف تنقید سن کر بھپر اٹھا

ازرا پاؤنڈ (۱۹۷۲۔ مشہور امریکی شاعر اور تنقید نگار ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور سے اس کی پہلی ملاقات ۳۰ جون ۱۹۱۲ کو لندن میں ہوئی۔ وہ ٹیگور کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا۔ ٹیگور کی نظم گیتا نجلّی کا انگریزی ترجمہ چھپا تو تو ازرا پاؤنڈ (Ezra Pound) نے لکھا کہ ٹیگور کے کلام میں وہ عظمت پائی جاتی ہے جو دانتے کی خصوصیت ہے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ وہ ہم میں سے کسی بھی شخص کے مقابلہ میں زیاوہ عظیم ہیں۔

..... greater than any one of us

ازرا پاؤنڈ نے ٹیگور کی بابت یہ الفاظ مارچ ۱۹۱۳ میں ایک امریکی رسالہ (Fortnightly Review) میں لکھے تھے صرف ایک ماہ بعد ۲۲ اپریل ۱۹۱۳ کو اس نے رسالہ (Poetry) کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جس میں ٹیگور کو فضول (Superfluous) قرار دیا اور کہا کہ ان کے کلام میں صرف بعض پرانی باتوں کی تکرار ہے اور اصل بنگالی زبان میں جواد بی چاشنی تھی وہ بھی انگریزی ترجمہ میں ختم ہوگئی ہے۔

ٹیگور کے بارہ میں ازرا پاؤنڈ کی رائے میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ازرا پاؤنڈ نے کالی موہن گھوش کی مدد سے کبیر کی نظموں کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ یہ ترجمہ کتابی صورت سے پہلے میگزین میں قسط وار چھپا۔ ٹیگور نے اس ترجمہ کو دیکھا تو وہ ان کو بہت ناقص معلوم ہوا۔ انھوں نے اس کے ادبی معیار پر سخت تنقید کی۔ اس تنقید کو پڑھ کر ازرا پاؤنڈ بگڑ گیا اور وہی ٹیگور جس کی بابت وہ اس سے پہلے غیر معمولی تعریفی کلمہ کہہ چکا تھا، اس کی ہجو کرنے لگا۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۱ مارچ ۱۹۰۹) بیشتر انسانوں کے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت چیزان کی اپنی ذات پر تنقید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انسانوں کے لئے پرستش کا مرکز ان کی اپنی ذات ہوتی ہے اور آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پرستش کے مرکز پر تنقید کبھی گوارا نہیں کرتا۔

آدمی جب کسی کی تعریف کرتا ہے تو اکثر حالات میں وہ خود اپنی تعریف کی ایک صورت ہوتی ہے۔ ایک لیڈر جب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور پنڈال میں بھرے ہوئے عوام کے سامنے فیاضانہ الفاظ کا تحفہ پیش کرتا ہے تو دراصل وہ عوام کو ان کے اس عطیہ کا بدلہ دے رہا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کے تقریری تھیٹر میں جمع ہو کر اس کی شان میں اضافہ کیا۔ ایک شخص جب کسی ایسے شخص کے اعتراف میں قصیدہہ پڑھتا ہے جو اس کا حریف نہیں ہے تو یہ دراصل اپنے وسعت ظرف اور اپنی شرافت کے اشتہار کی ایک بے ضرر صورت ہوتی ہے۔ ایک صاحب قلم جب دوسرے صاحب قلم کے تذکرہ میں الفاظ کے پھول کھلاتا ہے تو وہ یا تو بالواسطہ طور پر اس کے سابقہ قصیدہ کا شکرانہ ادا کر رہا ہوتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ تم بھی اسی طرح میرا قصید شائع کرنا۔ کبھی ایک تعریف اس لئے بھی شائع کی جاتی ہے کہ کسی سابقہ تنقید کی وجہ سے اپنی بگڑی ہوئی تصویر کو متوازن کیا جاسکے۔ حقیقی تو نفی کلمات دہ ہیں جو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلے ہوں۔ مگر یہی چیز دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے۔ کسی کو حقیقی خیر خواہی کا ایک کلمہ دینا اتنی بڑی فیاضی ہے جو شاذو نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page