Al-Risala · August 1979 · page 14

جو کھوتا ہے وہی پائے گا

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴

خواص کے لئے اتناہی اہم ہوتا ہے جتنا ایک عام آدمی کے لئے ایک اچھا گھر۔ کوئی قائد ایسے ایک حلقہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے جب کسی خوش قسمت انسان کے گرد ایسا حلقہ بن جائے تو ہر قیمت پر وہ اس کو باقی رکھنا ضروری خیال کرتا ہے۔ حالاں کئے یہ " حلقہ " ہی وہ چیز ہے جو خواص کے لئے سب سے زیادہ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ ایک آدمی جب آخرت کے لئے فکر مند ہوتا ہے تو وہ دنیا میں اپنے گھر کو برباد کر لیتا ہے۔ یہی معاملہ خواص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں آخرت کو اپنا مسئلہ بنائے گا اس کے ساتھ لازمیہ ہوگا کہ دنیا میں اس کا حلقہ ٹوٹنے لگے گا۔ اخروی مصلحتوں کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے وہ دنیوی مصلحتوں کی رعایت نہ کر سکے گا۔ خدا کو خوش کرنے کی کوشش میں وہ بندوں کو ناراض کر لے گا اس کی مقبولیت نامقبولیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ استقبالیہ دینے والے اس کو نظر انداز کریں گے۔ شان دار خطابات کے بجائے اس کو برے الفاظ کا تحفہ پیش کیا جائے گا لوگوں کی نظر میں باعزت بننے کے بجائے لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہو جائے گا۔ ادارے اور کانفرنسیں اس کو دعوت نامے روانہ کرنا بھول جائیں گی۔ کسی زندہ انسان کے لئے بلاشبہ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر جب تک آدمی اس امتحان کی بھٹی پر نہ پہنچے دہ اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ نہیں کرتا، وہ خدا کی طرف سے بولنے کے قابل نہیں ہوتا۔

آخرت کا داعی وہی بن سکتا ہے جو آخرت کے مسئلہ میں شدت احساس سے پگھل رہا ہو۔ یہ شدت ایک ایسے شخص میں پیدا نہیں ہو سکتی جو دنیا کی زندگی میں " گھر والا " بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی آتشیں کیفیت کا مالک تو وہی شخص ہو سکتا ہے جو دنیا میں بے گھر اور بے یارو مددگار ہو جائے۔ ایسے ہی ایک انسان کے اندر وہ احساس محرومی جاگتا ہے جو اس کو پانے کے لئے بے تاب کر دے۔ اپنی نفسیاتی کیفیت کے اعتبار سے ہی وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو آخرت سے اس طرح ہوشیار کرے جیسے کہ لوگ آگ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ جس کو آگ کی نہیں لگ رہی ہوں وہی جانتا ہے کہ آگ کیا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ آتشیں الفاظ میں لوگوں کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کرے ۔ جو محرومی کی زمین پر کھڑا ہو وہی یافت کا پیغام برین سکتا ہے۔ جس نے محرومی کا تجربہ نہیں کیا، اس کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کو آخرت کی محرومی کے مسئلہ سے ہوشیار کرنے والا بنے ـــــــــــ لوگ جس چیز کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں اسی کو کھونے میں ان کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

لوگ ایسے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں جن میں کچھ کہ بغیر " مصلح ملت زندہ باد" کے استقبالئے ملتے ہوں۔ جس میں صرف کچھ الفاظ بول کر عمل اور جد وجہد کا خطاب عطا کیا جاتا ہو۔ جس میں ایک تقریری نمائش پر شہرت اور عزت کے خزانے لٹائے جاتے ہوں۔ جس میں نعروں اور جھنڈوں کی سیاست چلانے پر آسمانی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ ملتا ہو۔ جس میں آدمی دوسروں سے چندہ لے کر لاکھ روپیہ کی تھیلی بنائے اور پھر ہوائی ماز میں اڑ کر " مظلومین " کی امداد کے لئے سفر کرے ــــــــــ ہر آدمی جھوٹے الفاظ کی ایک ڈکشنری لئے ہوئے ہے، صرف اس ۔ کہ جھوٹے الفاظ کی ڈکشنری دنیا کے بازار میں سب سے زیادہ دھوم کے ساتھ بکتی ہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس دنیا میں سب سے قیمتی سودا وہ ہے جو بکنے سے رہ گیا ہو۔ کیوں کہ خدا خود اس کا خریدار ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page