Al-Risala · August 1979 · page 18

ایک خدا سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸

کوئی شخص آگ سے کھیلنا چاہے تو فوراً اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے، کھیلنے والی چیز نہیں۔ مگر لوگ کبر، ظلم، بے انصافی، انسانیت، حق تلفی اور مصلحت پرستی جیسی چیزوں میں مشغول رہتے ہیں۔ انہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ایسے انگاروں سے کھیل رہے ہیں جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔

دین کا اصل کام وہی ہے جو اپنے آپ سے شروع ہو۔ آدمی کے اندر احتساب اور خود فکری کا مزاج پیدا ہو۔ وہ موت کو یاد کرے اور آخرت کے لئے فکر مند ہو۔ اس قسم کا دین آدمی کے اندر پیدا ہوا یا نہیں، اس کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کا بولنا کم ہو جائے۔ دوسروں سے زیادہ وہ اپنے بارے میں سوچنے ل، شکایت اور اختلاف کے موقع پر وہ تواضع کا رویہ اختیار کرے، کسی سے معاملہ کرتے ہوئے وہ سمجھے کہ رب العالمین سے معاملہ کر رہا ہے خواہ وہ آدمی کمزور ہو یا طاقت ور۔ جب بھی کسی کو زمین پر چھوٹا یا بڑا اقتدار ملنا ہے، وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ باقی رہے گا۔ حالاں کہ زمانہ نے کبھی کسی کے اس گمان کی تائید نہیں کی ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ اگلا شخص جو پہلے شخص کو قبر میں لٹاتا ہے وہ دوبارہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ زمین پر باقی رہے گا۔

آخرت وہ عالم ہے جہاں صداقتیں اپنی اصلی شکل میں کھول دی جائیں گی۔ دنیا میں سچائی کا اعلان اسی عالم آخرت کا لفظی اظہار ہوتا ہے جو موت یا قیامت کے بعد حقیقی طور پر بے نقاب کی جانے والی ہے۔ یہ دنیا والوں کے لئے آخرت کی ایک کھڑکی کھولنے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں سچائی کے اعلان کو سن کر جو لوگ منفی رد عمل کا مظاہرہ کریں، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ اپنے کو اس اندیشہ میں تو مبتلا نہیں کر رہے ہیں کہ اگلی دنیا میں وہ اس حال میں اٹھیں گے کہ وہ اندھے اور بہرے ہوں۔ دنیا میں وہ اس بات کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ آخرت والی حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر آخرت کی دنیا میں وہ آنکھ والے کیوں کر قرار پائیں گے۔

ساری دنیا میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ ملے گا جو آم کی گٹھلی کو آم سمجھے یا بیل کے چھلکے کو بیل سمجھ کر کھائے۔ مگر ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو الفاظ شماری کو ذکر سمجھتے ہیں اور کوڑا مارنے کو اسلامی نظام۔ گٹھلی اور چھلکے کو کھیل کہنے شالا ا سی دنیا کے بازار میں بے قیمت ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہر ایک کو اس کا بے حقیقت ہونا معلوم ہے، کوئی شخص پھل کے بازار میں گٹھلی اور چھلکا لے کر بیٹھنے کی جرأت نہیں کرتا۔ دوسری طرف لاکھوں لوگ ہیں جو الفاظ شماری اور کوڑا ماری والے دین کے نام پر بڑی بڑی دکانیں سجائے ہوئے ہیں۔ انہیں اس کے بے حقیقت ہونے کی خبر نہیں۔ شاید صرف اس لئے کہ اس قسم کے سودے کا بے قیمت ہونا موت کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ پہلی چیز انسانوں کے بازار میں بے قیمت ہے اور دوسری چیز اللہ کے بازار میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page