Al-Risala · August 1979 · page 19

ایک خدا سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹

کام کسی ظاہری دھوم کا نام نہیں بلکہ اندرونی یافت کا نام ہے۔ کبھی کرنے سے زیادہ بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ آدمی ٹھٹک کر رہ جائے۔ کبھی بولنے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی چپ لگ گئی ہو۔ کبھی وہ چیز زیادہ قابلِ ذکر ہوتی ہے جو کسی اخبار میں نہ چھپے کبھی وہ روداد زیادہ قیمتی ہوتی ہے کہ آدمی کی زبان سے الفاظ نہ نکلیں بلکہ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک جائیں۔

کتنے لوگ آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی جوانی میں بڑے جوش و خروش میں نظر آتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھرے ہوئے اور پائے ہوئے انسان ہیں۔ مگر آخر عمر میں وہ بالکل بے آس ہو کر رہ گئے۔ ان کا بڑھاپا اس طرح گزرا جیسے ان کے پاس جینے کے لئے کچھ نہ ہو۔ جیسے وہ خالی ہاتھ ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خارجی کارناموں میں جی رہے تھے۔ خود اپنے میں نہیں جی رہے تھے۔ جب تک کارنامے دکھانے کے مواقع تھے وہ اپنے آپ کو بھر پور محسوس کرتے رہے اور جب کارنامے دکھانے کی طاقت نہ رہی تو وہ اس طرح ڈھ گئے جیسے ایک بے جڑ کا درخت تھا جو ہوا کا جھونکا لگتے ہی گر گیا۔

آدمی کا یہی حال آخرت میں ہوگا۔ جو لوگ دنیا کے تمام جھام کے سہارے قائم ہیں۔ جو کار اور بنگلہ اور شہرت اور استقبال اور اخباری سرخیوں میں جی رہے ہیں وہ موت کے بعد اچانک محسوس کریں گے کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ وہ جینے کے تمام سہاروں سے محروم ہو گئے۔ آپ کے پاس صرف ظاہری رونقیں تھیں جن کو موت نے باطل کر دیا۔ اندرونی رونق آپ کے پاس تھی ہی نہیں جو موت کے بعد آپ کا ساتھ دے۔ ایسی حالت میں آپ کا انجام اس کے سوا اور کیا ہے کہ آخرت کے اندھیرے میں ابدی طور پر بھٹکتے رہیں۔

جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کے برائق (شرارتوں) سے محفوظ ہو۔ جہاں نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد انسان بستے ہوں۔ جہاں کی فضاؤں میں انسانی احترام اور حقیقتوں کا اعتراف کامل درجہ میں پایا جاتا ہو۔ جہاں انسان پھولوں کی طرح مہکتے ہوں اور نسیم صبح کی طرح متحرک ہوتے ہوں۔ جہاں کا ماحول بغض، حسد، عصبیت، مفاد پرستی اور تنگ نظری سے بالکل نا آشنا ہو۔ جہاں خدا کی خدائی اور عبد کی عبدیت اپنی کامل ترین شکل میں نمایاں ہو۔ جنت ایسی ہی ایک لطیف اور نفیس دنیا ہوگی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرے جو اس کو جنت کی دنیا کا شہری بنا سکیں۔ کسی کو جنتی دنیا کا داخلہ اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اس نے وہاں کے ماحول کے مطابق شہری اوصاف اپنے اندر پیدا کئے ہوں۔ جو لوگ اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے میں ناکام رہیں وہ وہاں کی دنیا کے لئے اسی طرح نا اہل رہیں گے جس طرح کوئی جاہل آدمی یونیورسٹی کی دنیا میں پروفیسر ی کے لئے۔ یونیورسٹی علم کی دنیا ہے۔ اس کی شہریت اسی شخص کو مل سکتی ہے جو علمی دنیا کے آداب کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔ اسی طرح جنتی دنیا کی شہریت بھی اس کو ملے گی جو اس بات کا ثبوت دے کہ وہ جنتی کردار کے ساتھ رہنے کی استعداد رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page