Al-Risala · August 1979 · page 21

ایک خدا سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱

سورۃ الفاتحة مکیة - ۱ بسم الله الرحمن الرحيم ه شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ بہت مہربان نہایت رحم والا ہے۔ انصاف کے دن کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا۔ ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستہ سے بھٹک گئے۔ بندے کے لئے کسی کام کا سب سے بہتر آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو اپنے رب کے نام سے شروع کرے ۔ وہ ہستی جو تمام رحمتوں کا خزانہ ہے اور جس کی رحمتیں ہر وقت ابلتی رہتی ہیں، اس کے نام سے کسی کام کا آغاز کرنا گویا اس سے یہ دعا کرنا ہے کہ تو اپنی بے پایاں رحمتوں کے ساتھ میری مدد پر آجا اور میرے کام کو خیر وخوبی کے ساتھ مکمل کر دے۔ یہ بندے کی طرف سے اپنی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی کے ساتھ اس کی کامیابی کی الہی ضمانت بھی۔ قرآن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ مومن کے قلبی احساسات کے لئے صحیح ترین الفاظ مہیا کرتا ہے۔ بسم اللہ اور سورہ فاتحہ اسی نوعیت کے دعائیہ کلام ہیں۔ سچائی کو پالینے کے بعد فطری طور پر آدمی کے اندر جو جذبہ ابھرتا ہے، اسی جذبہ کو ان الفاظ میں مجسم کر دیا گیا ہے ۔

آدمی کا وجود اس کے لئے اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اگر کسی آدمی سے کہا جائے کہ تم اپنی دونوں آنکھوں کو نکلوادویا دونوں پیروں کو کٹوا دو، اس کے بعد تم کو ملک کی بادشاہی دے دی جائے گی تو کوئی بھی شخص اس کے لئے تیار نہ ہوگا۔ گویا کہ یہ ابتدائی قدرتی عطیے بھی بادشاہ کی بادشاہی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اسی طرح آدمی جب اپنے گرد و پیش کی دنیا کو دیکھتا ہے تو یہاں ہر طرف خدا کی مالکیت اور رحیمیت ابلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس کو ہر طرف غیر معمولی اہتمام نظر آتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں حیرت انگیز طور پر انسانی زندگی کے موافق بنا دی گئی ہیں۔ یہ مشاہدہ اس کو بتاتا ہے کہ کائنات کا یہ عظیم کارخانہ بے مقصد نہیں ہو سکتا۔ لازمی طور پر ایسا دن آنا چاہئے جب ناشکروں سے ان کی ناشکر گزاری اور زندگی کی باز پرس کی جائے اور شکر گزاروں کو ان کی شکر گزار زندگی کا انعام دیا جائے ۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا ! تو فیصلہ کے دن کا مالک ہے۔ میں اپنے آپ کو تیرے آگے ڈالتا ہوں اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں، تو مجھ کو اپنے سایہ میں لے لے۔ خدایا ! ہم کو وہ راستہ دکھا جو تیرے نزدیک سچا راستہ ہے ۔ ہم کو اس راستہ پر چلنے کی توفیق دے جو تیرے مقبول بندوں کا راستہ ہے۔ ہم کو اس راستہ سے بچا جو بھٹکے ہوئے لوگوں کا راستہ ہے یا ان لوگوں کا جو اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے تیرے غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اللہ کا مطلوب بندہ وہ ہے جو ان احساسات وکیفیات کے ساتھ دنیا میں جی رہا ہو۔ سورہ فاتحہ اس بندہ مومن کی چھوٹی تصویر ہے اور بقیہ قرآن اس بندہ مومن کی بڑی تصویر۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page