Al-Risala · August 1979 · page 22

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵

الف لام میم ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو ۔ جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے اور نماز قائم کرتے ہیں ۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمھارے اوپر اترا اور جو تم سے پہلے اتارا گیا ۔ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انھیں لوگوں نے اپنے رب کی راہ پائی ہے اور وہی کامیابی کو پہنچنے والے ہیں ۱- اس میں شک نہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے ۔ مگر وہ ہدایت کی کتاب اس کے لئے ہے جو فی الواقع ہدایت کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو ، جو اس کی پروا اور کھٹک رکھتا ہو۔ سچی طلب جو فطرت کی زمین پر اگتی ہے وہ خود پانے ہی کا ایک آغاز ہوتا ہے ۔ سچی طلب اور سچی یافت دونوں ایک ہی سفر کے پچھلے اور اگلے مرحلے ہیں۔ یہ گویا خود اپنی فطرت کے بند صفحات کو کھولنا ہے ۔ جب آدمی اس کا سچا ارادہ کرتا ہے تو فوراً فطرت کی مطابقت اور اللہ کی نصرت اس کا ساتھ دینے لگتی ہے ، اس کو اپنی فطرت کی مبہم پکار کا متعین جواب ملنا شروع ہو جاتا ہے ۔

ایک آدمی کے اندر سچی طلب کا جاگنا عالم ظاہر کے پیچھے عالم باطن کو دیکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تلاش جب یافت کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو وہ ایمان بالغیب بن جاتی ہے ۔ وہی چیز جو ابتداءئی مرحلہ میں ایک برتر حقیقت کے آگے اپنے کو ڈال دینے کی بے قراری کا نام ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کا نمازی بننے کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ وہی جذبہ جو ابتدا اپنے کو خیر اعلیٰ کے لئے وقف کر دینے کے ہم معنی ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنے کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ وہی کھوج جو زندگی کے ہنگاموں کے آگے اس کا آخری انجام معلوم کرنے کی صورت میں کسی کے اندر ابھرتی ہے وہ آخرت پر یقین کی صورت میں اپنے سوال کا جواب پالیتی ہے ۔

سچائی کو پا ناگویا اپنے شعور کو حقیقت اعلیٰ کے ہم سطح کر لینا ہے ۔ جو لوگ اس طرح حق کو پالیں وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ، وہ سچائی کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھنے لگتے ہیں، اس لئے سچائی جہاں بھی ہو اور جس بندہ خدا کی زبان سے اس کا اعلان کیا جا رہا ہو وہ فوراً اس کو پہچان لیتے ہیں اور اس پر لبیک کہتے ہیں ۔ کوئی جمود ، کوئی تقلید اور کوئی تعصباتی دیوار ان کے لئے اعتراف حق میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصو صیات ہیں وہ اللہ کے سایہ میں آجاتے ہیں ۔ اللہ کا بنایا ہوا نظام ان کو قبول کر لیتا ہے ان کو دنیا میں اس سچے راستہ پر چلنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کی آخری منزل یہ ہے کہ آدمی آخرت کی ابدی نعمتوں میں داخل ہو جائے ۔

حق کو وہی پا سکتا ہے جو اس کا ڈھونڈنے والا ہے اور جو ڈھونڈنے والا ہے وہ ضرور اس کو پاتا ہے ۔ یہاں ڈھونڈنے اور پانے میں کوئی فاصلہ نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page