بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷
اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔ جو اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو توڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔ تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالاں کہ تم بے جان تھے تو اس نے تم کو زندگی عطا کی۔ پھر وہ تم کو موت دے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان درست کئے۔ اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔ ۲۹ کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ عبدیت کے اس عہد کو نبھائے جو پیدا کرنے والے اور پیدا کئے جانے والے کے درمیان اول روز سے قائم ہو چکا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان وہ اس طرح رہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تعلقات کو پوری طرح استوار کئے ہوئے ہو جن کے استوار کئے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جب خدا اپنے ایک بندہ کی زبان سے اپنے پیغام کا اعلان کرائے تو اس کے خلاف بے بنیاد باتیں نکال کر خدا کے بندوں کو اس سے بدکا یا نہ جائے۔ حق کی دعوت دینا دراصل لوگوں کو حالت فطری پر لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس لئے جو شخص لوگوں کو اس سے روکتا ہے وہ زمین میں فساد ڈالنے کا مجرم بنتا ہے۔
اللہ کا یہ احسان کہ وہ آدمی کو عدم سے وجود میں لے آیا، اتنا بڑا احسان ہے کہ آدمی کو ہمہ تن اس کے آگے جھک جانا چاہئے۔ پھر اللہ نے انسان کو پیدا کر کے یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کو رہنے کے لئے ایک ایسی زمین دی جو اس کے لئے انتہائی طور پر موافق ڈھنگ سے بنائی گئی تھی۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بہت آگے کی ہے۔ انسان ہر وقت اس نازک امکان کے کنارے کھڑا ہوا ہے کہ اس کی موت آجائے اور اچانک وہ مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لئے پیش کر دیا جائے۔ ان باتوں کا تقاضا ہے کہ آدمی ہمہ تن اللہ کا ہو جائے، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارے، ساری عمر وہ اس کا بندہ بنا رہے۔
پیغمبرانہ دعوت کے انتہائی واضح اور مدلل ہونے کے باوجود کیوں بہت سے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شوشے نکالنے کا فتنہ ہے۔ آدمی کے اندر نصیحت پکڑنے کا ذہن نہ ہو تو وہ کسی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتا ایسے آدمی کے سامنے جب بھی کوئی دلیل آتی ہے تو وہ اس کو سطحی طور پر دیکھ کر ایک شوشہ نکال لیتا ہے ۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دعوت کوئی معقول دعوت نہیں ہے۔ اگر وہ معقول دعوت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں اس قسم کی بے وزن باتیں شامل ہوں۔ مگر جو نصیحت پکڑنے والے ذہن ہیں جو باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں ، ان کو حق کے پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، خواہ حق کو "مچھر" جیسی مثالوں ہی میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues