Al-Risala · August 1979 · page 26

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اوپر ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔ وہ ذات جس نے زمین کو تمھارے لئے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا، اور اُتارا آسمان سے پانی، اور اس سے پیدا کئے پھل تمھاری غذا کے لئے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اگر تم اس کلام کے متعلق شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے کے اوپر اتارا ہے تو لاؤ اس کے مانند ایک سورہ اور بلا لو اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ پس اگر تم نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو ڈر و اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے آدمی اور پتھر۔ وہ تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے۔ اور خوش خبری دے دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے اس بات کی کہ ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے : یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اور ان کے لئے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی ۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ٢٥-٢١ انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے۔ وہ ہر آن ان کی پرورش کر رہا ہے۔ اس لئے انسان کے لئے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک اور رازق تسلیم کرے، وہ اس کو اپنا سب کچھ بنالے۔ مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی کے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو، جزئی یا کلی طور پر، خالق کے برابر ٹھہرا لیتا ہے، کبھی اس کو خدا کا نام دے کر اور کبھی خدا کا نام دئے بغیر۔

یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا مقام دے۔ اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔ جب خالص خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اور اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرنے لگتے ہیں جن کا دل خدا کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جنھوں نے خدا کے سوا کسی اور کے لئے بھی عظمت کو خاص کر رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کو اپنے فرضی معبودوں سے جو شدید تعلق ہو چکا ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ یہ حقیقت ہیں اور حقیقت صرف اس پیغام کی ہے جو آدمیوں میں سے ایک آدمی کی زبان سے سنایا جا رہا ہے۔ جو دعوت خدا کی طرف سے اٹھے اس کے اندر لازمی طور پر خدائی شان شامل ہو جاتی ہے۔ اس کا ناقابلِ تقلید اسلوب اور اس کا غیر مفتوح استدلال اس بات کی کھلی علامت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے، اس کے باوجود جو لوگ انکار کریں ان کو خدا کی دنیا میں جہنم کے سوا کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی۔ البتہ جو لوگ خدا کے کلام میں خدا کو پالیں انھوں نے گویا آج کی دنیا میں کل کی دنیا کو دیکھ لیا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت کے باغوں میں داخل کئے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page