Al-Risala · August 1979 · page 33

اصل کام ابھی باقی ہے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ حق تمام تر اس کی طرف ہے اور ناحق تمام تر دوسروں کی طرف ــــــــ اصحاب رسول اسلام کے ذریعہ آخرت کا انعام چاہتے تھے، ان کے پیچھے چلنے والے آج اسلام کے ذریعہ دنیا کا انعام لینے کی کوشش میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔

جہاں تک مسلموںانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کا سوال ہے، معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے مسلمان اور غیر مسلموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ عام معنوں میں ایک قوم اور دوسری قوم کا تعلق نہیں ہے، بلکہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مگر دنیا بھر میں بے شمار اسلامی ہنگاموں کے باوجود مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ابھی تک داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا ۔ حالاں کہ اللہ کو ہم سے اصلأ جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے۔ مسلمان اس دنیا میں شاہد ہیں اور دوسری قومیں مشہود ۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کے سیاسی اور مادی حریف بنے ہوئے ہیں۔ جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک داعی کے مقام پر کھڑا ہو اور دوسرا اپنے کو مدعو کے مقام پر پائے ، ہماری اسلامی سرگرمیوں کا نہ وہ فائدہ مل سکتا ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے اور نہ اس قسم کے اعمال آخرت کی عدالت میں ہم کو بری الذمہ کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ دو آدمی باہم گالی گلوج کر رہے ہوں، آپ ان کو شرافت اخلاق کی تلقین کرنے جائیں اور ان کے سر پر ایک بھاری پتھر پھینک دیں، تو آپ کے لئے اس میں کچھ نہیں۔ کیوں کہ بظاہر اگر چہ گالی گلوج سے منع کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ مگر آپ کے اور گالی دینے والے کے درمیان مصلح کا تعلق قائم نہیں ہوا۔ پھر خدا کے یہاں آپ کو اس سے کیا مل سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے غیر مسلموں کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت بس عام قوموں کی طرح ایک قوم کی ہے۔ اور ایسا تصور قائم کرنے میں وہ حق بجانب ہیں۔ اسلامی شخصیتیں اور اسلامی جماعتیں اپنی پڑوسی غیر مسلم قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے اندر کوئی رغبت نہیں پاتیں۔ البتہ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کے مظالم کے خلاف احتجاجی بیانات جاری کرنے میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ ان کی معاشیات یا سیاسیات کے کسی حصہ پر اگر غیر مسلم نے قبضہ کر لیا تو وہ فوراً اس کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ ان میں کبھی نہیں ابھرتی کہ اس قسم کے ہنگاموں کی وجہ سے غیر مسلم ہم کو اپنا دنیوی حریف سمجھ لیتے ہیں اور نتیجہ " اسلامی تحریک ان کی نظر میں اخروی تحریک نہیں رہتی بلکہ ایک قسم کی دنیوی تحریک بن کر رہ جاتی ہے۔ کچھ مسلمان اسلام کو عملیاتی مجموعہ کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ کچھ دوسرے مسلمان میں جو اسلام کو سیاسی احکام کے مجموعہ کی حیثیت سے سامنے لا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسلام یا تو دوسرے مذاہب کی طرح ایک رسمی مذہب نظر آتا ہے یا کمیونزم کی طرح ایک سیاسی مذہب ـــــــــــــ قرآن کے مطابق مسلمان کا کام شہادت علی الناس ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو جہنم سے ڈرانے والے اور جنت کی خوش خبری دینے والے بنیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیکولرزم کے احیار سے لے کر اپنے حقوق کی بازیابی تک بے شمار کاموں کے لئے غیر مسلم قوموں سے دست و گریباں ہیں۔ مگر اسی ایک کام کے لئے نہیں اٹھتے جو اللہ نے اصلأ ان کے اوپر فرض کیا تھا۔ یہ غفلت اتنی بڑی ہے کہ اندیشہ ہے کہ مسلمان اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں۔ اور پھر نہ دنیا میں ان کو خدا کا سایہ حاصل ہو اور نہ آخرت میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page