Al-Risala · August 1979 · page 34

قدیم آسمانی صحیفے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴

قدیم آسمانی صحیفے

حضرت موسیٰ کے بعد تین بڑے مواقع ایسے آئے ہیں جب کہ غیر اسرائیلی اقتدار نے بابل کے "عہد نامہ عتیق" کو برباد کیا۔ پہلی بار بابل کے بادشاہ بخت نصر (۵۶ - ۵۰۵ ق م) نے ۵۸۶ میں تمام فلسطین پر حملہ کیا۔ بیت المقدس کو آگ لگادی جس میں حضرت سلیمان نے تو رات کی تختیاں رکھوائی تھیں ۔ پچاس سال بعد عزرا نبی نے دوبارہ اپنے حافظہ سے پہلے پانچ صحیفوں کو لکھوایا ۔ پھر نحمیاہ نے کچھ اور کتابوں کے اضافے کئے۔ دوسری بار انطیوخوس چہارم نے، جو یونانی انطاکیہ کا بادشاہ تھا، بیت المقدس پر ۱۶۸ ق م میں حملہ کیا اور مقدس صحیفوں کو جلا دیا۔ یہودا مقابی نے کچھ اضافے کے ساتھ دوبارہ ان کو مرتب کیا۔ تیسری بار رومی بادشاہ تیٹس (۸۱ - ۷۰ م) نے منشہ میں بیت المقدس پر حملہ کیا اور اس کو ہیکل سلیمان سمیت برباد کر کے اس کو ملبہ میں تبدیل کر دیا۔

جہاں تک عہد نامہ جدید کا تعلق ہے، اس کے بارے میں فرانسیسی مستشرق موسیو ایتین (Eaton Dien) نے لکھا ہے :

"اللہ نے جو انجیل حضرت عیسیٰ کو ان کی اور ان کی قوم کی زبان میں دی تھی، وہ تو کوئی شک نہیں کہ ضائع ہو چکی ہے اور اب اس کا نام و نشان بھی نہیں رہ گیا ہے یا وہ خود تلف ہوگئیں یا بالقصد تلف کردی گئیں۔ اسی وجود سے عیسائیوں نے اس کی جگہ چار" تالیفات" کو اپنا لیا جن کی صحت اور تاریخی حیثیت مشکوک ہے۔ کیوں کہ یہ یونانی زبان میں ملتی ہیں جس کا مزاج حضرت عیسیٰ کی اصل سامی زبان سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لئے ان یونانی انجیلوں کا اپنے اتارنے والے سے رشتہ یہود کی تورات اور عربوں کے قرآن سے کہیں زیادہ کمزور ہے (اضوا ر علی المسیحیہ ۵۲ - ۵۳) یہ سائنس اور مذہب کا تصادم نہ تھا ابتدا ء جن لوگوں نے سائنسی تحقیقات کا کام کیا، وہ کسی بھی درجہ میں مذہب کے مخالف نہ تھے۔ آئزک نیوٹن (۱۷۲۷ - ۱۶۴۲) نے جب فلکیاتی اجرام کی گردش کے قوانین دریافت کئے تو اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا : "سیاروں کی مسلسل گردش صرف کشش ثقل کی وجہ سے نہیں ہوسکتی اس کے لئے کوئی خدائی بازو (Divine Arm) ہونا ضروری ہے " ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع لکھی تو اس نے صاف لفظوں میں خالق (Creator) کے وجہ کا اقرار کیا۔ اور اپنی کتاب ان الفاظ پر ختم کی : " زندگی کے اس تصور میں کتنی عظمت ہے کہ خالق نے ابتدا ء زندگی کی کچھ سادہ اقسام پیدا کیں اور ان سے زندگی کی انتہائی سادہ اور حیرت انگیز انواع وجود میں آئیں " اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ سائنس مذہب کی دشمن بن گئی۔ اس کی وجہ حقیقتاً سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہ تھا، جیسا کہ ڈار پر (۱۸۸۲ - ۱۸۱۱) اور دوسرے لوگوں نے سمجھا ہے۔ یہ دراصل سائنس اور قدیم علم کلام کا تصادم تھا جو مصریات اور یونانیات کی بنیاد پر وضع ہوا تھا نہ کہ خدائی مذہب کی بنیاد پر ۔ مذہب کے نمائندوں نے غلطی سے اس کو مذہب اور سائنس کا تصادم سمجھ لیا اور سائنس سے ٹکرا گئے۔ اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک زمانی طاقت جو مذہب کی خادم بن سکتی تھی وہ اول روز سے مذہب کی حریف بن گئی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page