آخرت والے عمل سے دنیا کی فائدہ چاہنا
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶
علمی جہاد ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ۔ اسلام کا مطلب اپنے جان اور مال کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ یہ حوالہ مکّل معنوں میں ہے۔ تاہم ایک خاص حد تک اس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ اسی قسم کا ایک حکم ہے جو یاد دلاتا ہے کہ آدمی کے مال میں خدا اور اس کے دین کا بھی حق ہے۔ قرآن میں زکوٰۃ کے جو مصارف بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک فی سبیل اللہ (توبہ ٦٠) ہے۔ یعنی اللہ کے راستہ میں دینا۔ اس سلسلے میں فی سبیل اللہ کا مفہوم متعین کرنے کے لئے بہت سی علمی و فقہی بحثیں کی گئی ہیں ۔ شیخ یوسف القرضاوی (قطر) نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب "فقہ الزکوٰۃ " میں مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے اور آخر میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال نہیں ہے ، نہ شخصی تملیک اس کے لئے ضروری ہے ، بلکہ عمومی نوعیت کا تربیتی اور علمی جہاد بھی اس میں دخل ہے۔ اور شاید آج مسلمان اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں ، ذیل میں شیخ یوسف القرضاوی کی بحث کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں :
موجودہ حالات میں فی سبیل اللہ سے جو اولین اور اہم ترین چیز مراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کے احیاء کا وہ پرو گرام جو اسلام کے جملہ احکام ، عقائد ، تصورات ، شعائر ، شرعی قوانین اور اخلاق و آداب کو بروئے کار لانے کے لئے ہو۔
یہ کام اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اسلام کے غیرت مندوں کو اپنی زکوٰۃ کا مال اور اپنی اعانتیں اس پر صرف کرنی چاہئیں ۔
ہماری رائے یہ ہے کہ بحالات موجودہ زکوٰۃ کے اس مصرف کو ثقافتی، تربیتی اور علمی جہاد کے لئے استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ بشرطیکہ وہ خالص اور صحیح اسلامی جہاد ہو۔ عصر حاضر میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جن سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا شمار بجاطور پر فی سبیل اللہ میں کیا جا سکتا ہے۔
صحیح اسلام کو پیش کرنے کے لئے دعوتی مراکز قائم کرنا جن کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ادیان و مذاہب کی کش مکش کے درمیان غیر مسلمین تک اسلام کا پیغام پہنچا یا سورہ توبہ (آیت ۶۰) میں صدقات کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں جن میں سے پہلے چار مصارف فقراء ، مساکین ، عاملین ، مولفتہ القلوب) کے لئے حرف لام استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات " ان کے لئے " ہیں۔ مگر بعد کے چار مصارف (غلام ، قرضدار، سبیل اللہ ، مسافر) کے لئے حرف فی استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات ان کی مد میں صرف کرنے کے لئے ہیں۔ پہلے چار مستحقین کے لئے لام ہے جو تملیک کا معنی دیتا ہے۔ بقیہ چار مستحقین کے لئے فی ہے جو عربی زبان میں ظرفیت کے لئے آتا ہے ــــــــــ حکم کے الفاظ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چار اصناف کو زکوٰۃ اس طور پر ملتی ہے کہ وہ اس کی مالک ہو جاتی ہیں جبکہ بقیہ چار اصناف کی حیثیت چار مدات کی ہے (فقہ الزکوۃ از شیخ یوسف القرضاوی ، قطر) شے پپایئر آئرن پر سنسکرت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues