Al-Risala · August 1979 · page 39

سب سے بری چیز : خود پسندی

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹

جو تمھارے ساتھیوں نے کیا ہے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین ! یہ میری خواب گاہ (قبر) تک پہنچانے کے لئے کافی ہے (یا امیر المومنین! هذا ابلغني المقيل، حليۃ الاولياء جلد ۱)

آخرت کی سختی کا خیال ہر چیز سے بے رغبت کر دیتا ہے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اسلام سے پہلے تجارت کرتے تھے، اسلام کے بعد ان کی تجارت چھوٹ گئی۔ ابن عساکر کی ایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں ابو الدرداء کی جان ہے، آج مجھ کو یہ بھی پسند نہیں کہ مسجد کے دروازہ پر میری ایک دکان ہو۔ میری ایک بھی جماعت کی نماز نہ چھوٹی ہو۔ میں روزانہ چالیس دینار کماؤں اور سب کا سب اللہ کے راستہ میں صدقہ کردوں۔ “ پوچھا گیا: اے ابو الدرداء ! کیا چیز ہے جس نے آپ کے لئے اس کو ناپسند سنا! ہے۔ جواب دیا: حساب کی سختی (شدة الحساب ، كنز العمال، جلد ۲ صفحہ ۱۴۹) آدمی لمبے انتظامات کرتا ہے حالاں کہ وہ جلد ہی مرنے والا ہے ابو نعیم نے عبد اللہ بن ابو ہذیل سے نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب اپنا گھر بنایا تو انھوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا ، آؤ دیکھو میں نے کیا بنایا ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ گئے اور ان کا مکان دیکھا۔ پھر فرمایا: دور کی امید کر رہے ہو اور جلد ہی مرو گے (تامل بعید او تموت قريبا، حلية الاولیاء جلد ۱ صفحہ ۴۲) آخرت سے پہلے دنیا میں بدلہ ابو فرات کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا۔ ایک روز آپ نے اپنے غلام سے کہا: میں نے تیرا کان ملا تھا، تو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔ اس نے آپ کا کان پکڑا ۔ آپ نے فرمایا اشد سختی سے مل): کتنا اچھا ہے کہ دنیا میں بدلہ ہو جائے، آخرت میں بدلہ کے لئے نہ رہے۔ (یا حبذا قصاص فى الدنيا لا قصاص فى الآخرة) موت کے قریب پہنچ کر بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو ان کے گھر کے لوگ جمع ہوئے اور کہا: واکرباہ (ہائے غم) بلال نے جواب میں کہا : واطرباہ، غدا القی الاحبة و صحبه (ہائے خوشی کل میں اپنے دوستوں سے ملوں گا، محمد اور ان کے اصحاب سے) خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا آخر وقت آیا تو آپ کی زبان سے نکلا : ان نحوت كفالا و وزراً ولا اجرا (نی سعید (اگر میں برابر پر چھوٹ جاؤں، نہ سزا ہو نہ انعام ملے تو یقیناً میں کامیاب رہا) سب سے زیادہ فکر جہنم کے عذاب سے بچنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام حبیبہ رض نے ایک روز ان لفظوں میں دعا مانگی : اللهم متعني بزوچی رسول الله و بابی سفیان خدایا ! میرے شوہر رسول اللہ اور میرے باپ ابوسفیان و باخی معاویه (مسلم) اور میرے بھائی معاویہ کا سایہ میرے اوپر دراز رکھ۔

آپ نے سن کر فرمایا : ام حبیبہ ! عمریں تو سب کی اللہ کے یہاں مقرر ہو چکی ہیں ۔ تم کو دعا کرنی تھی تو عذاب جہنم سے نجات پانے کی دعا کرتیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page