Al-Risala · August 1979 · page 40

جنت کی حرص

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰

مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک یہ ہے کہ اس کی اولاد دین دار ہو مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ ایک گھر میں کوئی اسلام کا ماننے والا ہوتا، کوئی اس کا انکار کرنے والا۔ ایک مسلمان اپنے باپ، اپنے بیٹے لیا اپنے بھائی کو حالت کفر میں دیکھتا۔ اس سے سخت تکلیف ہوتی۔ اس کے دل کو اللہ تے جس ایمان کے لئے کھول دیا تھا، اس کی وجہ سے اس کو یقین ہوتا کہ یہ اسی حالت پر رہا تو ہلاک ہو جائے گا اور آگ کے عذاب میں داخل ہوگا۔ اس لئے اپنے ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتیں (وقد فتح اللہ قفل قلبه للايمان ليعلمانہ قد ہلك من دخل النار فلا تق عنه، حليتہ الادیاء، جلد اول) ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں اللہ نے یہ آیت اتاری :

ربنا هب لنا من ازواجنا وذرياتنا قرة اعين واجعلنا اے ہمارے رب ! ہم کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد میں آنکھوں للمتقين اماما (شعراء) کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو متقیوں کا امام بنا دے۔

جنت کی حرص

طبرانی اور ابن عساکر نے بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کا پانی ان کو پسند نہ آیا۔ بنی غفار کے ایک آدمی کے پاس ایک کنواں تھا جس کو بئر رومہ کہا جاتا تھا۔ مہاجرین کو اس کا پانی پسند تھا۔ اس کا مالک ایک مشک پانی ایک مد (صاع کا چوتھائی) کے عوض بیچتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا: بعنيها بعين في الجنة (اس کنویں کو جنت کے ایک چشمہ کے عوض بیچ دے)۔ اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے عیال کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لئے اس کو میں اس طرح نہیں دے سکتا۔ اس واقعہ کی خبر عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔ انھوں نے بئر رومہ کو ۳۵ ہزار درہم دے کر خرید لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: اے خدا کے رسول ! کیا اس کنویں کے عوض میرے لئے بھی جنت کا چشمہ ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ انھوں نے اس کو عام مسلمانوں کو دے دیا۔ ایک کے لئے برکت، دوسرے کے لئے وبال عبدالرزاق نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو غزوہ حنین کے بعد کچھ عطیہ دیا۔ حضرت حکیم رضہ کو وہ کم معلوم ہوا۔ آپ نے دوبارہ عطا فرمایا۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول ! آپ کا کون سا عطیہ بہتر تھا۔ آپ نے فرمایا پہلا۔ پھر آپ نے کہا :

یا حكيم بن حزام إن هذا المال خضرة حلوة فمن اے حکیم ! یہ مال سرسبز وشیریں ہے جس نے اس کو سخاوت نفس اخذ ه بسخاوة نفس وحسن اكلة بورك له فيه اور بہتر طریق پر کھانے کے لئے لیا اس کے لئے اس میں برکت دی ومن اخذه باستشراف نفس وسوء اكلة لم يبارك جائے گی۔ اور جس نے اس کو حرص نفس کے ساتھ یا اور برے له فيه فكان كالذى يأكل ولا يشبع واليد العليا خير طریقہ سے کھایا اس کے لئے اس میں برکت نہ دی جائے گی، اللہ من اليد السفلى ۔ قال دمنك يا رسول اللہ قال ومعنی وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر (کنز العمال جلد ۳) کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ پوچھا : خواہ آپ سے لے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page