دنیا کے معاملات۔ میں بے نفسی
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
اے خدا کے رسول۔ فرمایا خواہ مجھ سے لے دنیا میں جاہ پسندی آخرت میں ذلت کا باعث ہوگی بخاری نے ابو مجلز سے روایت کیا ہے ۔ معاویہ رضیہ نکلے وہ ایک مقام پر پہنچے جہاں عبداللہ بن عامر رضیہ اور عبداللہ بن زبیر رضیہ پیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ رضیہ کو دیکھ کر عبداللہ بن عامر رضیہ کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن زبیر بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ رضیہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : جس کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے لئے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے (من سرہ ان يمثل له عباد الله قياما فليتبوأ بيتا من النار، الادب المفرد صفحه ۱۴۳) آخرت کی خاطر دنیا کو چھوڑنا ابو نعیم نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ کھانے کا وقت ہوا تو آپ ان کے پاس ایک بڑا پیالہ لائے جس میں بے چھنے آٹے کی روٹی اور روغن زیتون تھا۔ ان لوگوں سے کہا کھاؤ۔ انہوں نے آہستہ آہستہ بہت تھوڑا تھوڑا کھانا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اے اہل عراق! تم جو کچھ کر رہے ہو، میں دیکھ رہا ہوں۔ سنو! اگر میں چاہوں تو میرے لئے بھی اچھا اور نرم کھانا تیار ہو سکتا ہے جیسا کہ تمہارے لئے تیار کیا جاتا ہے، پھر فرمایا: دلكنا نبتغى من الدنيا نا نجدها في آخرتنا. اما سمعتم مگر ہم اپنی دنیا میں باقی رکھتے ہیں تاکہ ہم اس کو اپنی آخرت میں اللہ عز وجل قال لقوم اذهبتم طيباتكم في حياتكم پائیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے ایک گروہ کے لئے فرمایا : تم اپنی اچھی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے، ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ کیا میٹھا اور نمکین اور گرم اور سرد۔ جو کچی کھاؤ، پھینکنے ہی کی چیز بیٹ میں بنے گی (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) سائب بن یزید کہتے ہیں۔ میں نے کئی بار شام کا کھانا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھایا۔ وہ معمولی روٹی اور سادہ گوشت کھاتے پھر اپنے ہاتھ کو اپنے پاؤں سے پونچھ لیتے اور فرماتے : آل عمر کا تو یہ ہی ہے (يا كل الخبز و اللحم ثم يمسح يده على قدمه ثم يقول : هذ امندیل عمر د آل عمر)
دنیا کے معاملات۔ میں بے نفسی
خرجه ابن ابی الدنیا من رواية محمد بن مهاجر ابن ابی الدنیا نے محمد بن مہاجر کے واسطہ سے یونس بن میسرہ عن یونس بن میسرۃ قال : ليس الزهادة في الدنيا کا قول نقل کیا ہے۔ زہد یہ نہیں ہے کہ حلال چیزوں کو حرام بتحريم الحلال ولا اضاعة المال ولكن الزهادة في کر لو یا مال کو ضائع کرو۔ بلکہ زہد یہ ہے کہ تمھارے پاس الدنیا ان تكون بما في يد الله اوثق منك بما في يدك وان جو کچھ ہے اس سے زیادہ اعتماد تم کو اس پر ہو جو اللہ کے تكون حالك في المصيبة حالك اذا لم تصب بها پاس ہے۔ اور مصیبت میں تمھارا جو حال ہوتا ہے وہی سواء دان يكون مادحك وذامك في الحق سواء اس وقت بھی ہو جب کہ مصیبت نہ ہو۔ اور حق کے معاملہ جامع العلوم والحكم صفحه ۲۵۴ میں تعریف کرنے والا اور مذمت کرنے والا دونوں تمھاری نظر میں برابر ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues