Al-Risala · August 1979 · page 43

دو آنکھیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گی

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

ایک سفر

بھیونڈی، مہاراشٹر کا ایک صنعتی شہر ہے جو دہلی سے ۶۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جمعیۃ اہل حدیث کے اجتماع میں شرکت کے لئے یہاں آنے کا اتفاق ہوا۔ ۲۳ مارچ ۱۹۷۹ء کو بھیونڈی پہنچا۔ اجتماع سے فراغت کے بعد ایک روز بمبئی میں گزرا اور اس کے بعد ۲۹ مارچ کو دہلی واپسی ہوئی۔

بھیونڈی ایک صنعتی شہر ہے۔ یہاں کا خاص کاروبار پارچہ بافی ہے۔ پاور لوم کی مشینی موسیقی شہر میں رات دن کے کسی بھی حصہ میں سنی جاسکتی ہے۔ شہر کی دیواروں پر جگہ جگہ میونسپلٹی کی طرف سے لکھا گیا ہے "اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھئے" مگر آس پاس کا ماحول آپ کو بتائے گا کہ نہ صرف شہریوں نے بلکہ خود اعلان کرنے والوں نے بھی ان الفاظ کو بہت کم قابلِ توجہ سمجھا ہے۔ بھیونڈی کی آبادی تقریباً تین لاکھ ہے۔ اس میں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً ۶۵ فی صد ہے۔ تاہم تعلیم میں ان کا تناسب آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ ایک بچہ یہاں با آسانی روزگار پا لیتا ہے۔ اس لئے اکثر والدین بچہ کو تعلیم گاہ میں بٹھانے کے بجائے کارخانہ میں بھیجنا زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ کاروبار میں بظاہر ہر طرف ممسلمان ہی سلمان نظر آتے ہیں مگر یہاں کی کاروباری سرگرمیوں میں ان کا حقیقی حصہ مقابلہ بہت کم ہے۔ پر شور لوم تقریباً اسی صدی صدان کے ہیں۔ تاہم پچاس فی صد سے زیادہ لوم وہ ہیں جن کی حیثیت محض "مزدور" کی ہے کیوں کہ وہ دوسروں کے دیئے ہوئے سوت کو اجرت پر بُن رہے ہوتے ہیں۔ بنائی سے پہلے کا کام (سوت تیار کرنا) اور بنائی کے بعد کا کام (مارکیٹنگ) دونوں دوسرے لوگوں کے قبضہ میں ہیں۔

یہ تو کل کی عجیب و غریب قسم ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے حصہ میں آئی ہے۔ اسلام میں تو کل کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اندیشوں سے بے پروا ہو کر اپنے مقصد کی خاطر اپنی قوت اور اپنے مال کو خرچ کرنا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے توکل کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اگر بے فکری کی زندگی گزارنے کے لئے کچھ پیسے مل رہے ہوں تو زیادہ کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

بمبئی میں ادارہ دعوت القرآن کے دفتر میں ایک مفصل تقریر (۲۷ مارچ) ہوئی ۔ پڑھا لکھا طبقہ معقول تعداد میں جمع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جمعیۃ اہل حدیث بمبئی کے دفتر میں ایک تقریر ہوئی اور مسجد میں درسِ حدیث دینے کا موقع ملا، بمبئی میں مسلمانوں کے بہت سے ادارے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مسجدیں عام طور پر نہایت شان دار بنی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ بمبئی کے مسلمانوں کا مزاج ہے۔ بمبئی کا مسلمان عام طور پر "کاروباری مزاج" کا ہوتا ہے۔ کاروبار آدمی کے اندر سادگی، اتحاد اور حقیقت پسندی پیدا کرتا ہے۔ ان کا یہ مزاج ان کے لئے کاروباری اعتبار سے بھی مفید ہوا ہے اور دینی اعتبار سے بھی۔ ایک بزرگ بمبئی میں کامیابی کے ساتھ کئی دینی ادارے چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا "ہم لوگ تو یہاں اختلاف کو ترستے ہیں" بمبئی میں ایک معقول منصوبہ لے کر اٹھنے والے کو فوراً ساتھی مل جاتے ہیں جو خاموشی کے ساتھ اس کو ہر طرح کا تعاون دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اسی ملک میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں کوئی منصوبہ چلانے کی کوشش کیجئے تو ساتھ کوئی نہ دے گا البتہ اختلاف کرنے والے اور رکاوٹیں ڈالنے والے بہت مل جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page