دو آنکھیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گی
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
جمعیتہ اہل حدیث کے اجتماع کا مقصد یہ تھا کہہ لوگوں کو بتایا جائے کہ دین وہ ہے جو آدمی کو قرآن و سنت سے ماہرہ نہ کہیں اور سے۔ زیادہ تقریریں اسی نکتہ پر مرکوز رہیں۔ راقم الحروف نے اجتماع کے علاوہ رئیس ہائی اسکول میں دو تقریریں کیں، نیز شہر میں بعض اور مقامات پر اہل علم افراد کی نشستیں ہوئیں جن کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ بھیونڈی میں ابھی تک تعلیمی اور تعمیری کاموں کی طرف نسبتاً کم توجہ رہی ہے۔ تاہم اب کچھ مسلمانوں کو اس کی پورا کرنے کا احساس ہوا ہے۔ ہم نے ایک زیر تعمیر ادارہ دیکھا جو انجمن فرقانیہ کے نام سے بن رہا ہے۔ اس ادارہ میں ایک تین منزلہ مسجد بھی ہوگی۔ یہاں ایک تعلیم گاہ، چھوٹی بچیوں کو جمع کرنے کی اسکیم اور اس طرح کے دوسرے منصوبے چلائے جائیں گے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے دارالاحوان کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس میں ایک اسلامی دارالمطالعہ ہے۔ اس کے علاوہ غیرسودی کو آپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کے نام سے ایک اسکیم چلائی جارہی ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی ادارے زیر تعمیر ہیں جو مستقبل کے بارے میں اچھی امید کی علامت ہیں ۔
مارچ کی ۲۰ تاریخ تھی اور راجدھانی ایکسپریس ۱۲۰ کلومیٹر کی رفتار سے دہلی کی طرف دوڑی چلی جارہی تھی۔ اتنے میں سنائی دیا کہ ٹکٹ کا معائنہ کرنے والا عملہ ایک مسافر سے جھگڑ رہا ہے۔ مشکل یہ تھی کہ عملہ انگریزی میں بول رہا تھا اور مسافر کہ رہا تھا کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ اس مسافر نے اپنا نام "راجندر" بتایا۔ جب ٹکٹ پر اس کا نام "پرتاپ" لکھا ہوا تھا۔ مسافر نے کہا کہ میرا ٹکٹ میرے بیوپاری نے کرایا ہے، اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا نام لکھوایا۔ نام میں اس فرق کی وجہ سے عملہ نے فیصلہ دیا کہ وہ مسافر کو بترددہ میں اتار کر پولیس کے حوالے کر دے گا۔ وہاں اس کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہوگا؛ اسی طرح ایک مسافر کا نام صحیح تھا مگر کا غذ پر مسٹر کی جگہ "مسٹرہ، لکھ گیا تھا۔ اس کو فیصلہ سنایا گیا کہ اس کا سہم اردپنے کا ٹکٹ اس نقص کی وجہ سے بے کار ہو چکا ہے۔ اس کو دوسرا ٹکٹ مع جرمانہ ۲۳۶ روپے میں خریدنا ہوگا ۔ جہاں اہم شخصیتوں (VIPs) کا معاملہ ہو وہاں خوب جانچ پڑتال ہوتی ہے، اور جب صرف عوام کا معاملہ ہو تو ان کو بھیڑ بکری کی طرح حالات کا شکار ہونے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
راجدھانی ایکسپریس یا ہوائی جہاز سفر کی مدت کو مختصر کر دیتے ہیں ۔ مگر ایسا سفر راقم الحروف کے ذوق کے انتہائی خلاف ہے۔ یہ ایک قسم کا ڈبہ بند سفر ہوتا ہے۔ کھڑکیوں میں موٹے شیشے لگے ہوتے ہیں، اور آپ باہر کی دنیا کو صرف شیشوں کے واسطے سے دیکھ سکتے ہیں۔ مسافر کے دائیں بائیں قدرت کی دنیا پھیلی ہوئی ہوتی ہے مگر وہ اس کے براہ راست مشاہدہ میں نہیں آتی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان شادی ہو اور اس کے بعد دونوں کو ایک ایسے کمرہ میں بٹھا دیا جائے جہاں ان کے درمیان موٹے شیشہ کی دیوار حائل ہو۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں مگر ایک دوسرے سے مل نہ سکتے ہوں۔ باہر درخت کی پتیاں ہل رہی ہیں، مگر ان کی ہوائیں مسافر تک نہیں پہنچتیں۔ باہر چڑیاں چہچہارہی ہیں مگر ان کی آوازیں ہم کو سنائی نہیں دیتیں۔ سورج کی کرنیں آسمان سے آرہی ہیں مگر وہ مسافر کے وجود کو نہیں چھوتیں ۔ ہم خدا کی کائنات میں سفر کر رہے ہوتے ہیں مگر سارا سفر اس طرح ہوتا ہے جیسے کہ ہم الگ ہیں اور وہ الگ ۔ تمدن کی ترقی نے انسان کو فطرت کی دنیا سے کتنا دور کر دیا ہے !
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues