جب تمام حقیقتیں کھل جائیں گی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴
جب تمام حقیقتیں کھل جائیں گی
قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ جب زمین اپنے بھونچال سے ہلائی جائے گی۔ اور زمین اپنے بوجھ کو نکال ڈالے گی۔ اس وقت آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔ اس دن زمین سب خبریں بتا دے گی۔ کیوں کہ تمھارے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا۔ اس دن لوگ مختلف جماعتوں میں آئیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں۔ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (زلزال) دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے: اور جس روز اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کئے جائیں گے پھر وہ جدا جدا کئے جائیں گے۔ پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان پر گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے اعضا سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم کو اسی اللہ نے بلوایا ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے۔ اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اور اسی کے پاس پھر لائے گئے ہو۔ تم دنیا میں اس سے چھپ نہ سکتے تھے کہ تمھارے کان اور آنکھیں اور چمڑے تمھارے خلاف گواہی دیں۔ بلکہ تم اس گمان میں رہے کہ اللہ کو تمھارے بہت سے اعمال کی خبر ہی نہیں۔ تمھارے اس گمان نے جو تم نے اپنے رب سے کیا تھا تم کو ہلاک کیا۔ پس آج تم خسارہ میں پڑ گئے۔ یہ لوگ صبر کریں تب بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر عذر کر کرنا چاہیں تو اب کوئی عذر مقبول نہیں۔ ہم نے دنیا میں ان کے کچھ ساتھی مقرر کر دئے تھے جو انھیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوش نما بنا کر دکھاتے تھے۔ ان کے حق میں اللہ کا قول پورا ہو کر رہا۔ جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں پر پورا ہوا تھا۔ یقیناً وہ سب خسارے میں رہے (حم سجدہ) دنیا میں آدمی ظالمانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ سچائی کے پیغام کو ٹھکرا تا ہے۔ وہ حق دار کو اس کا حق ادا کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ جس پر قابو پا جاتا ہے اس کے اوپر خدا وند بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو صداقت کا معیار بنا لیتا ہے۔ وہ دنیا میں اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ یہاں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنے اختیارات کو استعمال کرے ۔ مزید یہ کہ ہر آدمی کے پاس الفاظ کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جس سے وہ اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو چھپا سکے۔ ہر آدمی کے پاس خوبصورت تاویلات ہیں جن سے وہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کر سکے۔ یہ سب کچھ یہاں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے مگر ساری کائنات خاموش کھڑی ہوئی اس کو دیکھ رہی ہے۔ درختوں کی پتیاں مظلوم کی حمایت میں نہیں بولتیں۔ سورج اور چاند حق کی طرف سے اپنا کوئی بیان نہیں دیتے زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ایک غیر جانب دار تماشائی کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔ دنیا میں بولنے والی زبان صرف ایک ہی نظر آتی ہے اور وہ انسان کی زبان ہے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حق کی پامالی کو دیکھتا ہے ادھاس سے بے تعلقی ظاہر کرتا ہے۔ وہ خود غرضیوں اور مصلحتوں کے تحت بولتا ہے۔ وہ طاقت ور کی طرف داری کرتا ہے خواہ وہ باطل پر ہو اور کمزور کو نظر انداز کرتا ہے خواہ وہ حق پر ہو۔ ایک ایسی کائنات جہاں چڑیوں کے سریلے نغمہ بلند ہوتے ہوں۔ جہاں سورج روزانہ اندھیرے کو اجالے میں لاتا ہو، وہاں کوئی حق کی حمایت میں بولنے والا نہیں۔ وہاں کوئی بے انصافی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues