جب تمام حقیقتیں کھل جائیں گی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۵
کا پردہ پھاڑنے والا نہیں۔
آنے والی قیامت اسی سوال کا جواب ہے۔ قیامت کے دن کائنات کا مالک اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس دن حق کی حکمرانی ہوگی۔ اس دن زمین و آسمان کی تمام چیزیں بول پڑیں گی ۔ حتیٰ کہ آدمی کے اپنے اعضا بھی سچائی کی گواہی دینے لگیں گے۔ اس کے بعد عزت والا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک حق پر تھا اور وہ تمام لوگ ذلت کے ابدی عذاب میں دھکیل دیے جائیں گے جو خدا کے نزدیک ناحق پر چل رہے تھے۔
ایک عظیم الشان شہر ہے۔ ہر قسم کی رونقوں سے بھرا ہوا۔ اس کے بعد اچانک بھونچال آتا ہے۔ پورا شہر خاک کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو شہر کی سڑکوں پر عالی شان سواریوں میں دوڑتے تھے ان کی حقیقت ایک بے زور کیڑے سے زیادہ نہ تھی۔ ان کے اونچے اونچے سجے ہوئے مکانات اینٹ پتھر کے ملبے سے زیادہ حقیقت نہ رکھتے تھے۔ ان کا صدر اور گورنر بھی اتنا ہی بے قیمت تھا جتنا ایک عام مزدور۔ زلزلہ نے شہر کی تمام مصنوعی شان و شوکت کو باطل کر دیا۔ اس کے بعد جو بچا وہ وہی تھا جو شہر کی اصل حقیقت تھی۔
قیامت بھی اسی قسم کا ایک زلزلہ ہے۔ قیامت کیا ہے۔ پردہ کا ہٹا دیا جانا ، تمام غیر واقعی چیزوں کا باطل کر دیا جانا۔ موجودہ دنیا میں آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے کہ اصل حقیقتیں اس سے اوجھل ہیں۔ خدا اور آخرت کا عالم جو اصل عالم ہے، وہ یہاں مکمل طور پر غیب میں ہے۔ انسان نظر آتا ہے مگر خدا نظر نہیں آتا۔ قیامت کے آتے ہی یہ حالت بدل جائے گی۔ خدا اپنے تمام جلال کے ساتھ سامنے آ جائے گا۔ جنت، دوزخ، فرشتے، سب آنکھوں کے سامنے ہوں گے ۔ اس حقیقی عالم کی نسبت سے انسان کی جو اصل حیثیت ہے وہ پوری طرح کھل جائے گی۔ دنیا میں آدمی اپنے حقیقی وجود کو ایک ظاہری پردہ میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ بے زور ہو کر بھی زور اور دکھائی دیتا ہے آخرت میں وہ اپنے اصلی اور حقیقی روپ میں بے پردہ ہو جائے گا۔ آدمی اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے جیسے ویسا ہی وہ ظاہر کے اعتبار سے ہو جائے گا۔ اس سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو رب العالمین اپنی رحمتوں میں لے لے، جن کو وہ اپنی مغفرت میں ڈھانپ لے۔
موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس امتحان کی وجہ سے لوگوں کو آزادی ہے۔ اس وقتی آزادی سے فائدہ اٹھا کر ہر آدمی اچھل کو درہا ہے۔ مگر جب امتحان کی کاپی چھین لی جائے گی تو آدمی اپنے آپ کو اس اصلی مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے تھا۔
کیسا عجیب وہ وقت ہوگا ۔ کتنے شان دار قلعے اس دن ملبہ کا ڈھیر ہوں گے۔ کتنے "بڑے" اس دن کیڑے مکوڑوں کی مانند رینگ رہے ہوں گے۔ کتنے خوش پوشاک اس دن گدھوں اور کتوں کی طرح دکھائی دیں گے ۔ کتنے زبان آور اس دن گونگوں کی مانند کھڑے ہوں گے۔ کتنے "دین دار" اس دن اس طرح نظر آئیں گے جیسے ان کا دین خداوندی سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ کتنے اپنی دولت پر ناز کرنے والے اس دن اس حال میں ہوں گے کہ ان کے پاس ایک کوڑی بھی نہ ہوگی جس سے وہ آخرت کی دنیا کی کوئی چیز حاصل کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues