Al-Risala · September 1979 · page 7

آپ سب سے بڑے تھے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۷

آپ سب سے بڑے تھے

میرا یہ انتخاب کہ محمد دنیا کی تمام انتہائی با اثر شخصیتوں میں سر فہرست ہیں، کچھ قارئین کو اچنبھے میں ڈال سکتا ہے۔ کچھ اور لوگ اس پرترض ہوسکتے ہیں۔ مگر محمد تاریخ کے واحد شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی، مذہبی سطح پر بھی اور دنیاوی سطح پر بھی۔ محمد نے معمولی حیثیت سے آغاز کر کے ایک عظیم ترین مذہب کی بنیاد رکھی اور اس کو پھیلایا۔ وہ انتہائی مؤثر سیاسی لیڈر بن گئے۔ ان کی وفات کے تیرہ صدیوں بعد آج بھی ان کے اثرات غالب اور طاقتور ہیں۔ اس کتاب میں جو اہم تاریخی شخصیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے ، ان کی اکثریت اس خوش قسمتی کی مالک تھی کہ وہ تہذیب کے مرکزوں میں پیدا ہوئی اور وہاں پلی بڑھی۔ وہ ایسی قوموں کے فرد تھے جن میں اعلیٰ تمدن تھایا ان کو سیاسی مرکزیت حاصل تھی۔ مگر محمد ۵۷۰ء میں مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جو جنوبی عرب میں واقع تھا اور اس وقت دنیا کا ایک پس ماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ تجارت، آرٹ اور علم میں اس کو کوئی مرکزیت حاصل نہ تھی۔ چھ سال کی عمر میں یتیم ہوکر ان کی پرورش ایک معمولی ماحول میں ہوئی۔ اسلامی روایات مزید بتاتی ہیں کہ وہ بے پڑھے لکھے تھے۔ ان کی اقتصادی حالت ۲۵ سال کی عمر میں صرف اس وقت بہتر ہوئی جب کہ انہوں نے ایک دولت مند بیوہ سے شادی کی جن کی عمر ۴۰ سال تھی۔ تاہم چالیس سال کی عمر تک بظاہر کوئی ایسی علامت نہ تھی کہ وہ کوئی ممتاز شخصیت کے انسان ہیں۔ بیشتر عرب اس وقت آسمانی کتاب سے محروم تھے۔ وہ بہت سے دیوتاؤں پر عقیدہ رکھتے تھے۔ تاہم مکہ میں محدود تعداد میں کچھ یہودی اور عیسائی تھے۔ محمد نے سب سے پہلے انہیں سے واحد اور قادر مطلق خدا کا تصور لیا جو تمام کائنات کا حکمران تھا۔ جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو محمد کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک سچا خدا (اللہ) ان سے کلام کر رہا ہے۔ اور اس نے سچے مذہب کی تبلیغ کے لئے ان کا انتخاب کر لیا ہے۔

تین سال تک محمد صرف اپنے قریبی دوستوں اور متعلقین پر تبلیغ کرتے رہے۔ پھر تقریبا ۶۱۳ء میں انہوں نے عوام میں تبلیغ شروع کی۔ دھیرے دھیرے لوگوں نے ان کے مذہب کو قبول کرنا شروع کیا تو مکہ کے سردار ان کو اپنے لئے ایک خطرناک مصیبت سمجھنے لگے۔ ۶۲۲ میں محمد کو اپنی حفاظت کا خطرہ محسوس ہونے لگا اور وہ مدینہ چلے گئے جو مکہ کے شمال میں تقریبا ۲۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہاں ان کو قابل لحاظ سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہ ہجرت پیغمبر کی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب تھا۔ مکہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد صرف چند تھی۔ مدینہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ انہوں نے جلد اتنا اثر پیدا کر لیا کہ علاقہ مدینہ کے مطلق حکمران بن گئے۔ اگلے چند سال میں، جب کہ محمد کے ساتھیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی، مدینہ اور مکہ کے درمیان جنگوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا یہ جنگ ۶۳۰ میں ختم ہوئی جب کہ محمد دوبارہ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔ ان کی زندگی کے بقیہ ڈھائی سالوں میں عرب قبیلے بہت تیزی سے ان کے نئے مذہب میں داخل ہو گئے۔ ۶۳۲ میں جب محمد کا انتقال ہوا تو وہ تمام جنوبی عرب کے حکمراں بن چکے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page