آپ سب سے بڑے تھے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۸
عرب کے بدو قبائل ماضی سے سخت جنگ جو چلے آ رہے تھے۔ مگر ان کی تعداد کم تھی اور وہ اختلاف اور باہمی لڑائیوں کے نتیجہ میں برباد ہو رہے تھے۔ وہ شمالی عرب کے زرعی علاقوں میں آباد شہنشاہیتوں کی بڑی فوجوں سے کوئی نسبت نہ رکھتے تھے۔ تاہم محمد نے پہلی بار ان کو منظم کیا۔ ایک خدا پر پر جوش اعتقاد سے مسلح ہو کر یہ چھوٹی عرب فوجیں انسانی تاریخ کی سب سے حیرت ناک فتوحات کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ عرب کے شمال مشرق میں ساسانیوں کی عظیم نو پارسی شہنشاہیت تھی، عرب کے شمال جنوب میں بازنطینی یا مشرقی رومی شہنشاہیت تھی جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ عددی اعتبار سے عرب اپنے حریفوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ تاہم جنگ کے میدان میں ، پر جوش عربوں نے بہت تیزی سے تمام میسو پوٹامیہ، شام اور فلسطین کو فتح کر لیا۔ ۶۳۴ء میں مصر کو بازنطینی سلطنت سے توڑ لیا گیا۔ ایرانی فوجیں ، ۴۳ میں قادسیہ اور ۴۲۷ میں نہاوند کی جنگوں میں پسپا کر دی گئیں ۔
مگر یہ عظیم فتوحات، جو کہ محمد کے قریبی ساتھیوں اور ابتدائی خلفاء ابو بکر اور عمر بن الخطاب کی رہنمائی میں انجام پائیں، عرب پیش قدمیوں کی انتہا نہ تھیں۔ ۱۱۷ تک عرب فوجوں نے شمالی افریقہ سے لے کر بحر اٹلانٹک تک مکمل طور پر فتح کر لیا تھا۔ یہاں سے وہ شمال میں بڑھے اور آبنائے جبرالٹر کو پار کرتے ہوئے اسپین کی گاتھ سلطنت کو مغلوب کر کے اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔
تھوڑی دیر کے لئے محسوس ہونے لگا کہ مسلمان تمام مسیحی یورپ پر قابض ہو جائیں گے۔ مگر ۷۳۲ء میں ٹورس کی مشہور جنگ میں ایک مسلمان فوج ، جو کہ فرانس کے مرکز تک پہنچ چکی تھی، بالآخر فرانسیسیوں کے ہاتھوں شکست کھاگئی۔ تاہم ان بدو قبائل نے ، جو کہ پیغمبر کی تعلیمات سے متاثر تھے، ایک صدی کی قلیل مدت میں ایک ایسی سلطنت قائم کرلی جو ہندستان کی سرحدوں سے لے کر بحر اٹلانٹک کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ اتنی بڑی سلطنت تھی جیسی سلطنت اس سے پہلے تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ تمام ممالک جو عربوں نے فتح کئے، ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں نے نئے مذہب کو قبول کر لیا۔
یہ تمام فتوحات مستقل ثابت نہ ہوسکیں۔ ایرانی اگر چہ پیغمبر کے مذہب پر قائم رہے، تاہم انھوں نے عربوں کے اقتدار سے آزادی حاصل کر لی۔ اسپین میں سات سو سال کی جنگوں کے بعد آخر کار عیسائیوں نے پورے جزیرہ نما کو دوبارہ فتح کر لیا۔ تاہم میسو پوٹامیہ اور مصر جو کہ قدیم تہذیب کے گہوارہ رہے ہیں، بدستور عرب باقی رہے اور اسی طرح شمالی افریقہ کا پورا ساحلی علاقہ بھی۔ نیا مذہب ، بلاشبہ درمیانی صدیوں میں مسلمانوں کی ابتدائی مقبوضہ سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلتا رہا۔ آج اس کے ماننے والوں کی تعداد افریقہ اور وسط ایشیا میں دسیوں ملین ہے اور پاکستان اور شمالی ہندوستان اور انڈونیشیا میں اور بھی زیادہ ہے۔ انڈونیشیا میں اسلام ایک اتحاد کی عامل ثابت ہوا ہے۔ تاہم برصغیر ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کشمکش اتحاد کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اب اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ محمد کے اثرات مجموعی طور پر انسانی تاریخ کے اوپر کیا ہیں۔ تمام مذاہب کی طرح اسلام اپنے پیروؤں کی زندگی کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے بانیوں نے الارسال ستمبر ۱۹۷۹
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues