آپ سب سے بڑے تھے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰
کی مرکزیت اور یہ واقعہ کہ وہ عربی زبان میں لکھا گیا ہے، اس نے غالباً عربی کو اس سے بچایا ہے کہ وہ مختلف اور ایک دوسرے کے لئے ناقابل فہم زبانوں میں تقسیم ہو جائے۔ حالاں کہ درمیانی تیرہ صدیوں میں ایسا ہونا بالکل قرین قیاس تھا۔ عرب ریاستوں میں اختلاف اور تقسیم میں یقیناً موجود ہیں اور وہ قابل لحاظ ہیں، مگر جزیئی عدم اتحاد کو دیکھ کر ہمیں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان اہم اتحادی اجزاء کو نہ دیکھیں جو مسلسل ان کے درمیان پائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۳ء کی سردیوں میں عربوں نے تیل کا بائیکاٹ کیا تو ایران اور انڈونیشیا اس میں شریک نہیں ہوئے۔ مگر یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور صرف عرب ریاستیں اس منصوبہ میں شریک ہوئیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساتویں صدی میں عربوں کی فتوحات انسانی تاریخ میں مسلسل اہم حصہ ادا کر رہی ہیں۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ مذہبی اور دنیاوی اثرات کا یہی بے نظیر اجتماع ہے جو میری نظر میں محمد کو اس لائق بناتا ہے کہ ان کو تاریخ کا سب سے زیادہ با اثر واحد شخص قرار دیا جائے ۔ (انگریزی سے ترجمہ)
یہ مضمون مائیکل ہارٹ (پیدائش ۱۹۳۲) کی کتاب ایک سو (100 The) سے ماخوذ ہے، مصنف ایک امریکی عالم فلکیات ہیں اور اسی کے ساتھ مورخ بھی۔ انھوں نے اور ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی نے مل کر دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعہ کا حاصل انھوں نے ۵۷۲ صفحات کی ایک انگریزی کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک سو ایسے آدمیوں کے حالات درج ہیں جنھوں نے مصنف کے نزدیک تاریخ پر نمایاں ترین اثرات ڈالے ۔ کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔ کیوں کہ مصنف کے مطالعہ کے مطابق وہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان ہیں۔ انسانی تاریخ پر آپ نے جو اثرات ڈالے وہ کسی دوسرے واحد شخص نے نہیں ڈالے۔ اس کتاب میں نمبر ۳ پر حضرت مسیح ، نمبر ۶ پر حضرت موسیٰ اور نمبر ۸ پر حضرت عمر بن الخطابؓ کو رکھا گیا ہے۔ یہاں کتاب کے اس حصہ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے، اس کتاب کی قیمت ساڑھے بارہ ڈالر ہے۔ کتاب میں اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ تاہم طریق مطالعہ کے اعتبار سے اس میں وہ خامیاں موجود ہیں جو غیر مسلم سیرت نگاروں کے یہاں اکثر پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ آپ نے ابتداً یہودیوں اور عیسائیوں سے توحید کا تصور لیا۔ یا یہ کہ آپ قرآن کے مصنف تھے۔ یہ باتیں نہ صرف ہمارے عقائد کے خلاف ہیں بلکہ خالص علمی پہلو سے بھی بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کے رد میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان مزعومات کے علمی اور تاریخی طور پر باطل ثابت ہونے کے باوجود مغربی علماء کیوں انھیں دہراتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مخصوص ذہن ہے ، وہ ’’علم‘‘ کے کسی غیر زمینی ماخذ کو نہیں مانتے۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص نے زمین سے ماورا کسی ذریعہ سے کیسے علم حاصل کر لیا۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بات بیٹھ جائے تو اس کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ کتنی ہی مدلل ہو، اس کے ذہن کی پکڑ میں نہیں آتی۔ وہ اپنی بات کو اس طرح دہراتا رہے جیسے کہ وہ بدستور ایک مسلمہ صداقت ہے ۔ خواہ اس کو کتنے ہی معقول دلائل سے رد کیا جا چکا ہو ( مترجم ) (رسالہ، ستمبر ۱۹۷۹ء
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues