آپ سب سے بڑے تھے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۹
ہماری اس کتاب میں نمایاں طور پر جگہ پائی ہے۔ چوں کہ عیسائی سرسری اندازہ کے مطابق، دنیا میں مسلمانوں کے مقابلہ میں تقریباً دگنی تعداد میں ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ بات عجیب معلوم ہوگی کہ محمد کو ہم نے اس کتاب میں مسیح سے اوپر رکھا ہے۔ ہمارے اس فیصلہ کے دو بڑے وجوہ ہیں۔ اول محمد نے اسلام کی ترقی میں اس سے کہیں زیادہ اہم حصہ ادا کر لیا ہے جتنا مسیح نے عیسائی مذہب کی ترقی کے لئے کیا ہے۔ مسیحیت کی بنیادی اخلاقیات، جس حد تک وہ یہودیت سے مختلف ہیں، ان کی تعلیم اگرچہ حضرت مسیح نے دی۔ مگر مسیحی الہیات کا وضع کرنے والا اصلا سینٹ پال ہے۔ وہی اس کا اصل مبلغ ہے اور عہد نامہ جدید کے بڑے حصہ کا مصنف بھی۔
مگر اسلام کی الہیات اور اس کے بنیادی اخلاقی اصول دونوں کو دینے والے محمد تھے۔ مزید یہ کہ نئے مذہب کی تبلیغ میں انھوں نے کلیدی حصہ ادا کیا اور اسلام کے مذہبی اعمال کو قائم کیا۔ پھر وہی ہیں جو کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مصنف ہیں، جو کہ محمد کے کچھ واردات قلب کا ریکارڈ ہے اور جس کی بابت ان کا یقین تھا کہ وہ براہ راست خدا کی طرف سے ان پر الہام کیا گیا ہے۔ ان الہامات کا اکثر حصہ محمد کی زندگی ہی میں صحت کے ساتھ لکھ لیا گیا تھا اور ان کی وفات کے جلد ہی بعد ان کو ایک مستند مجموعہ کی صورت میں مرتب کیا گیا ۔ اس لیے قرآن قریبی طور پر محمد کے خیالات اور تعلیمات کی نمائندگی کرتا ہے اور بڑی حد تک ان کے بولے ہوئے اصل الفاظ کا بھی۔ مسیح کی تعلیمات کے بارے میں اس قسم کا تفصیل مجموعہ موجود نہیں۔ قرآن چوں کہ مسلمانوں کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بائبل مسیحیوں کے لئے۔ اس لئے قرآن کے واسطے سے مسلمانوں کے اوپر محمد کا اثر غیر معمولی رہا ہے۔ اغلب ہے کہ محمد کے اضافی اثرات اسلام پر اس سے بہت زیادہ ہوں جتنا کہ مسیح اور سینٹ پال کا مجموعی اثر مسیحیت پر۔ البتہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خالص مذہبی سطح پر محمد کے اثرات انسانی تاریخ پر اتنے ہی ہیں جتنے مسیح کے ہیں۔ مزید یہ کہ محمد (بمقابلہ مسیح کے دنیاوی لیڈر بھی تھے اور مذہبی لیڈر بھی۔ در حقیقت عرب فتوحات کے پیچھے قوت محرکہ کی حیثیت سے ان کو تمام زمانوں میں سب سے زیادہ با اثر سیاسی لیڈر کہا جا سکتا ہے۔
اکثراہم تاریخی واقعات کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناگزیر تھے اور جس خاص سیاسی لیڈر نے اس کی رہنمائی کی، اس کے بغیر بھی وہ وقوع میں آتے۔ مثال کے طور پر، جنوبی امریکہ اس وقت بھی اسپین سے آزادی حاصل کر لیتا اگر سائمن بولیور کا سرے سے وجود نہ ہوتا۔ مگر یہی بات عرب فتوحات کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ محمد سے پہلے عرب میں اس قسم کا کوئی واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور یہ یقین کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ان کے بغیر بھی یہ فتوحات حاصل ہوتیں۔ انسانی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی فتوحات صرف منگولوں کی ہیں جو انھوں نے تیرھویں صدی میں حاصل کیں۔ یہ فتوحات بنیادی طور پر چنگیز خاں کے اثر سے ہوئیں۔ تاہم یہ فتوحات عربوں کی فتوحات سے وسیع تر ہونے کے باوجود مستقل قائم نہ رہ سکیں اور آج منگولوں کے پاس صرف وہی علاقے ہیں جو ان کے پاس چنگیز خاں سے پہلے تھے۔ عربوں کی فتوحات کا معاملہ بالکل مختلف ہے، عراق سے مراکش تک عرب قوموں کا ایک پورا سلسلہ پھیلا ہوا ہے جو نہ صرف اسلام میں اپنے عقیدہ کی وجہ سے متحد ہیں بلکہ عربی زبان، تاریخ اور کلچر بھی سب کا ایک ہے۔ مسلم مذہب میں قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues