ماہنامہ ستمبر ۱۹۶۹ء
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴
حضرت موسیٰ عل السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے ساتھ سخت ترین واقعات پیش آئے۔ وقت کی جابر سلطنت کے مقابلہ میں وہ بالکل بے یار ومددگار ہوگئے۔ پھر بھی اللہ نے معجزاتی طور پر ان کو بچالیا۔ مصر سے نکل کر وہ ایک ایسے غیر آباد علاقہ میں پہنچے جہاں خشک بیابان اور چٹیل پہاڑوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ مگر اللہ نے چٹانوں کے اندر سے ان کے لئے پانی کے چشمے جاری کر دئے اور ان کی غذا کے لئے اوپر سے من و سلویٰ نازل فرمایا۔ بنی اسرائیل کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ قرآن میں محض ایک قصہ کے طور پر بیان نہیں ہوا ہے۔ بلکہہ اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ تاریخ کی زبان میں داعی کے مقام کو بتایا گیا ہے۔ اللہ کے پیغام کا علم بردار بننے کے لئے آدمی کو اللہ کی سطح پر جینا پڑتا ہے۔ اس لکھا پنے آپ کو عالم آخرت سے اتنا زیاوہ متعلق کرنا پڑتا ہے کہ موجودہ دنیا کے سرے اس کے ہاتھ سے چھوٹنے لگتے ہیں۔ حق کا داعی وہی شخص بن سکتا ہے جو اپنے آپ کو اتنا زیادہ غیراللہ سے کاٹے اور اللہ کے ساتھ اپنے کو اتنا زیادہ جوڑے کہ اس کی ہستی تمام تر اللہ رب العالمین کے اوپر نربھر ہو جائے۔ وہ عجز کے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں خدا کی نصرت ہی اس کے لئے واحد سہارا ہو۔ اس کا شعور یہ احتیاج اتنا کامل ہو جائے کہ پانی کا ہر گھونٹ اس کو خدا کی طرف سے اترا ہوا گھونٹ معلوم ہونے لگے، کھانے کا ہر لقمہ جو وہ اپنی حلق سے اتارے، اس کو محسوس ہو کہ یہ براہِ راست اس کے پاس خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ عبدیت کے اس کامل شعور کی سطح پر آدمی کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں، اسی کا نام دعوت ہے۔ اس کے بغیر جو کہا یا بولا جائے وہ تصنیف اور تقریر ہے نہ کہ اللہ کے پیغام کی پیغام رسانی۔ ایک راہ گیر نے دیکھا کہ ریلوے کا پل ٹوٹ گیا ہے۔ اتنے میں اس کو ایک ایکسپریس ٹرین طوفانی رفتار کے ساتھ آتی ہوئی نظر آئی۔ اس وقت سیکڑوں مسافروں سے لدی ہوئی ٹرین کو بچانے کی ایک ہی صورت تھی : وہ اپنے خون سے اپنے کپڑے کو لال کرے اور اس کو لے کر ریلوے لائن پر کھڑا ہو جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ راہ گیر نے اپنے خون کی قیمت دے کر اپنے آپ کو وہاں پہنچا دیا جہاں امکانی طور پر دوسرے مسافر پہنچنے والے تھے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو سکا کہ وہ دوسرے مسافروں کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کرے۔ ایک شخص جو آگ میں جل رہا ہو وہی یہ کہ سکتا ہے کہ "آگ جلاتی ہے"۔ وہ شخص جس پر جلنے کا تجربہ نہیں گزرا، اس کے لئے "آگ جلاتی ہے"، کا جملہ محض دور کا ایک جملہ ہے، وہ آگ کے جلانے کی خبر نہیں ہے۔ داعی اگر اپنے دنیوی امکانات کو بچانے کی خاطر زمانہ سازی کرے، وہ اپنے دنیوی نقصانات کی خاطر لوگوں سے لڑے، دہ عوامی مقبولیت کو باقی رکھنے کے لئے ان کی پسندیدہ بولی بولنے لگے۔ وہ بربادی کے اندیشہ کی بنا پر مصلحت پرستی کا طریقہ اختیار کرے۔ تو یہ اس کے مشن کی نفی کے ہم معنی ہوگا۔ اس طرح وہ اپنے ظاہری فائدوں کو محفوظ کرلے گا، مگر اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ داعیانہ تجربات سے محروم ہو جائے گا۔ وہ زبان سے آخرت کی بات کرے گا مگر عملاً دنیا میں جی رہا ہوگا۔ وہ لفظی طور پر اپنے آپ کو خدا کا داعی ظاہر کرے گا مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کا پورا وجود غیر اللہ میں اٹکا ہوا ہوگا۔ وہ تحریر و تقریر میں حق پرستی کی نمائندگی کرے گا مگر اپنی روزمرہ کی زندگی میں وہ خود پسندی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues