ماہنامہ ستمبر ۱۹۶۹ء
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷
اور مفاد پرستی کو اپنا مذہب بنائے ہوئے ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بربادی کی قیمت پرہی آخرت کی آبادی کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔ جو اپنے آپ کو دنیا کی بربادی سے بچائے، وہ گویا اپنے آپ کو مقامِ دعوت تک پہنچنے سے بچا رہا ہے۔ ایسے شخص کا دعوتی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رات دن دنیا کو سمیٹنے میں لگا ہوا ہو اور دوسرے سے کہے کہ زہد اور قناعت کا طریقہ اختیار کرو۔
کسی بندہ خدا کی زبان سے حق کی آواز کا اٹھنا مدعو کے اعتبار سے اس کے اوپر خدا کی حجت کا اتمام ہے۔ اور داعی کے اعتبار سے اس کو دعوتِ حق کا کریڈٹ دینا ہے۔ بندوں کی نظر میں کوئی دعوت اسی وقت دعوت ہے جب کہ وہ شاعری اور تفریح کی سطح پر نہ دی جارہی ہو بلکہ حقیقی زندگی کی سطح پر کسی روح سے ابلی ہو۔ اسی طرح کوئی بندہ اللہ کی نظر میں اسی وقت دعوتی شرف کا مستحق بنتا ہے جب کہ وہ اللہ کا ہم صحبت بن کر دعوتِ خداوندی کے لئے اٹھا ہو۔ اس کے بغیر نہ بندوں کی نظر میں اس کی کوئی قیمت ہے اور نہ اللہ کی نظر میں۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من احب دنیاه اضر باخرته ومن احب جو اپنی دنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کو کھودے گا اور آخرتہ اضر بدنیاه فآثروا ما یبقى علیٰ ما یفنیٰ جو اپنی آخرت سے محبت کرے گاوہ اپنی دنیا کو کھودے گا۔ پس جو مسند احمد، بیہقی) باقی رہنے والا ہے اس کو ترجیح دو اس پر جو فنا ہونے والا ہے۔
جب آدمی دنیا میں آرام اور عزت سمیٹنا چاہتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخرت کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کو آخرت کی فکر لگتی ہے تو بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کی چیزوں کے لئے اس کی فکر کم ہوجاتی ہے اور نتیجہ اس کو دنیا کے معاملہ میں نقصان پر قانع ہونا پڑتا ہے۔
یہی واقعہ داعی کے معاملہ میں مزید شدت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ایک شخص جو ذاتی طور پر مومن و مسلم بننا چاہے، اس کے مقابلہ میں اس کی ذمہ داریاں کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہیں جو دوسروں کو ایمان و اسلام کی دعوت پہنچانا چاہتا ہو۔ عام آدمی اگر مومن ہے تو داعی کو شاہد بننا پڑتا ہے۔ دوسرے لوگ جس چیز پر صرف ایمان لائے ہوئے ہیں، داعی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو دیکھے، تاکہ دیکھی ہوئی چیز کی طرح وہ دوسروں کو اس کی بابت خبردار کر سکے۔ غیبی حقیقتوں کو اس دنیا میں صرف تصور کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے، اس لئے یہ دیکھنا اس وقت وقوع میں آتا ہے جب کہ نظر آنے والی چیزوں سے وہ اپنی توجہ کو اتنا زیادہ ہٹائے کہ اس کی تمام توجہات عالم آخرت کی طرف لگ جائیں۔ آخرت کو دیکھنا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی دنیا کو دیکھنے پر راضی ہوجائے۔ دنیا کو کھونے والا ہی آخرت کو پاتا ہے اور جو شخص دنیا میں بے توجہ ہو جائے وہی وہ شخص بنتا ہے جو آخرت کو دیکھے اور دوسروں کو اسے دکھائے۔ جس کی نگاہیں دنیا میں لگی ہوئی ہوں، وہ کبھی آخرت کو دیکھنے والا نہیں بن سکتا۔ اس لئے وہ کبھی داعی کے مقام پر بھی کھڑا نہیں ہوسکتا۔ دعوتِ آخرت کی بادقیمت بربادی دنیا ہے۔ جو اپنی دنیا کو برباد کرنے کے لئے تیار نہ ہو اس کا آخرت کی دعوت کے میدان میں قدم بھی نہیں رکھنا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues