جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
اور جب ہم نے فرشں سے کہا کہ آدمیی اللہی کو سجدہ کرو تواٹھوں نے سجدہ ک مگر ابلیس نے نہ کیا اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے نزدیک مت جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ پھر شیطان نے اس درخت کے ذریعہ دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان کو اس عیش سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا تم سب اترو یہاں سے، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے ۔ اور تمھارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور کام چلانا ہے ایک مدت تک ۔ پھر آدم نے سیکھ لئے اپنے رب سے چند بول تو اللہ اس پر متوجہ ہوا۔ بے شک وہ تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ہم نے کہا تم سب یہاں سے اترو۔ پھر جب آے تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلائیں گے تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۳۹۔ ۴۳ آدم کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کے درمیان کھڑا کیا اور سجدہ کے امتحان کے ذریعہ آدم کو عملی طور پر بتایا یا کہ ان کے لئے زمین پر دو ممکن راہیں ہوں گی۔ ایک فرشتوں کی طرح حکم الہی کے ساسامنے جھک جانا، خواہ اس کا مطلب اپنے سے کمتر ایک بندے کے آگے جھکنا کیوں نہ ہو۔ دوسرا ابلیس کی طرح اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کے آگے جھکنے سے انکار کر دینا۔ انسان کی پوری زندگی اسی امتحان کی رزم گاہ ہے۔ یہاں ہر وقت آدم کو دو رویوں میں سے کسی ایک رویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک ملکوتی رویہ، یعنی دنیا کی زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے ، اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدمی حق و انصاف کے آگے جھک جائے ۔ دوسرا شیطانی رویہ، یعنی جب کوئی معاملہ پیش آئے تو آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ ان کے زیر اثر آکر صاحب معاملہ کے آگے جھکنے سے انکار کر دے۔ ممنوعہ درخت کا معاملہ بھی اسی ذیل کا ایک عملی سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے کھیلنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے ورغلانے میں آجائے اور اس حد میں قدم رکھ دے جس میں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ منع کئے ہوئے پھل کو کھاتے ہی آدم کی نصرت، بالفاظ دیگر جنت کے استحقاق سے محروم ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ محرومی ایسی نہیں ہے جس کی تلافی نہ ہوسکتی ہو۔ یہ امکان آدم کے لئے پھر بھی کھلا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے اور اپنے رویہ کو درست کرتے ہوئے اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔ جب بندہ اس طرح پلٹتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے اور اس کو اس طرح پاک کر دیتا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہیں کیا تھا۔
کسی انسانی آبادی میں اللہ کی دعوت کا اٹھنا بھی اسی قسم کا ایک سخت امتحان ہے۔ داعی حق بھی گویا ایک آدم ہوتا ہے جس کے سامنے لوگوں کو جھک جانا ہے۔ اگر وہ اپنے کبر اور اپنے تعصب کی وجہ سے اس کا اعتراف نہ کریں تو گویا انہوں نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا اس دنیا میں عیاناً منے نہیں آتا، وہ اپنی نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو جانچتا ہے۔ جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو پایا اسی نے خدا کو پایا اور جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو نہیں پایا وہ خدا سے محروم رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues