جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس احسان کو جو میں نے تمھارے اوپر کیا۔ اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا۔ اور میرا ہی ڈر رکھو۔ اور ایمان لاؤ اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے۔ تصدیق کرتی ہوئی اس چیز کی جو تمھارے پاس ہے۔ اور تم سب سے پہلے اس کا انکار کرنے والے نہ بنو۔ اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا۔ اور مجھ سے ڈرو۔ اور صحیح میں غلط کو نہ ملاؤ اور سچ کو نہ چھپاؤ حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔ تم لوگوں سے نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ ۔ حالاں کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور مدد چاہو صبر اور نماز سے اور بے شک وہ بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو ڈرنے والے ہیں۔ جو گمان رکھتے ہیں کہ ان کو اپنے رب سے ملنا ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ۴۰۔ ۴۸ کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے پاس اپنا پیغمبر بھیجے اور اس کے ذریعے اس گروہ کے اوپر ابدی فلاح کا راستہ کھولے۔ نبی آخرالزمان کی بعثت سے پہلے یہ نعمت بنی اسرائیل (یہود) کو دی گئی تھی مگر مدت گزرنے کے بعد ان کا دین ان کے لئے ایک قسم کی تقلیدی رسم بن گیا تھا نہ کہ شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کی ہوئی ایک چیز۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے حقیقت کھول دی ۔ ان میں سے جن افراد کا شعور زندہ تھا وہ فوراً آپ کی صداقت کو پہچان گئے اور آپ کے ساتھی بن گئے ۔ اور جن لوگوں کے لئے ان کا دین آبائی رواج بن چکا تھا ان کو آپ کی آواز نا مانوس آواز لگی ۔ وہ بدک گئے اور آپ کے مخالفت بن کر کھڑے ہوگئے ۔
اگرچہ آپ کی نبوت کے بارے میں تو رات میں اتنی واضح علامتیں تھیں کہ یہود کے لئے آپ کی صداقت کو سمجھنا مشکل نہ تھا ، مگر دنیوی مفاد اور مصلحتوں کی خاطر انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ صدیوں کے عمل سے ان کے یہاں جو مذہبی ڈھانچہ بن گیا تھا اس میں ان کو سرداری حاصل ہوگئی تھی ۔ وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے ۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھران کو ملتے رہتے تھے ۔ ان کو نظر آیا کہ اگر انھوں نے نبی عربی کو سچا مان لیا تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہو جائے گی ، مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا ۔ یہود کو چوں کہ اس وقت عرب میں مذہب کی نمائندگی کا مقام حاصل تھا، لوگ ان سے نبی عربی کی بابت پوچھتے ۔ وہ معصومانہ انداز میں کوئی ایسی شوشہ کی بات کہہ دیتے جس سے پیغمبر کی ذات اور آپ کا مشن لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو جائے ۔ اپنے وعظوں میں وہ لوگوں سے کہتے کہ حق پرست بنو اور حق کا ساتھ دو۔ مگر عملاً جب خود ان کے لئے حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو وہ حق کا ساتھ نہ دے سکے۔ خدا کی پکار پر لبیک کہنا جب اس قیمت پر ہو کہ آدمی کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے، عزت و شرف کی گدیوں سے اپنے کو اتارنا ہو تو یہ وقت ان لوگوں کے لئے بڑا سخت ہوتا ہے جو انہیں دنیوی جلووں میں اپنا مذہبی مقام بنائے ہوئے ہوں، مگر وہ لوگ جو خشوع کی سطح پر جی رہے ہوں ان کے لئے یہ چیزیں رکاوٹ نہیں بنتیں ، وہ اللہ کی یاد میں ، اللہ کے لئے خرچ کرنے میں، اللہ کے حکم کے آگے جھک جانے میں اور اللہ کے لئے صبر کرنے میں وہ چیز پا لیتے ہیں جو دوسرے لوگ دنیا کے تماشوں میں پاتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ڈرنے کی چیز اللہ کا غضب ہے نہ کہ دنیوی اندیشے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues