جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور نیک سلوک کرو گے ماں باپ کے ساتھ، قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ۔ اور بے کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر تم اس سے پھر گئے سوا تھوڑے لوگوں کے۔ اور تم اقرار کر کے اس سے ہٹ جانے والے لوگ ہو۔ ۸۳ انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میں سابقہ پیش آئے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے ورمیان جب بھی کوئی معاملہ پڑے تو وہاں ایک وہی برتاؤ اپنے بھائی کے ساتھ ورست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔
اس معاملہ میں آدمی کا اصل امتحان "یتیموں اور مسکینوں“ ، بالفاظ دیگر، کمزور افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو طاقت در ہے اس کا طاقت در ہونا خود اس بات کی ضمانت ہے کہ لوگ اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ مگر کمزور آدمی کے ساتھ حسن سلوک کے لئے اس قسم کا کوئی اضافی محرک نہیں ۔ اس لئے سب سے زیادہ حسن سلوک جہاں مطلوب ہے وہ کمزور لوگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہر چیز کی نفی ہو جاتی ہے وہاں خدا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ ہی شخص حسن سلوک کرے گا جو فی الواقع اللہ کی خوشنودی کے لئے ایسا کر رہا ہو۔ کیوں کہ وہاں کوئی دوسرا محرک موجود ہی نہیں۔
جب معاملہ کمزور آدمی سے ہو تو مختلف وجوہ سے حسن سلوک کا شعور دب جاتا ہے۔ کمزور آدمی کو مدد دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانے والے کے مقابلہ میں دینے والا اپنے کو کچھ اونچا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کمزور آدمی کی عزت نفس کو ملحوظ رکھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ کمزور کی بات سے متوقع نیاز مندی کا اظہار نہ ہو تو فوراً اس کو نا اہل سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا اظہار مختلف تکلیف دہ صورتوں میں ہوتا رہتا ہے، ایک دو بار مدد کرنے کے بعد یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ شخص مستقل طور پر میرے سر نہ ہو جائے ، اس لئے اس سے چھٹی لینے کی خاطر اس کے ساتھ غیر شریفانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ وغیرہ بھلی بات بولنا تمام اعمال کا خلاصہ ہے، ایک حقیقی خیر خواہی کا کلمہ کہنا آدمی کے لئے ہمیشہ سب سے زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ آدمی اچھی اچھی تقریریں کرتا ہے۔ مگر جب ایک اچھی بات کسی دوسرے کے اعتراف کے ہم معنی ہو تو آدمی ایسی اچھی بات منہ سے نکالنے کے لئے سب سے زیادہ بخیل ہوتا ہے۔ سامنے کا آدمی اگر یہ زور ہے تو اس کے لئے شرافت کے الفاظ بولنا بھی وہ ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر کسی سے شکایت یا برہمی پیدا ہو جائے تو آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ انصاف کے خدائی حکم سے اس کو مستثنیٰ کرنے میں حق بجانب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues