Al-Risala · September 1979 · page 27

جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷

کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ یہود تمھارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے۔ حالاں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھر اس کو بدل ڈالتے تھے سمجھنے کے بعد، اور وہ جانتے ہیں۔ جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہوئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمھارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور ان میں ان پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو مگر آرزوئیں۔ ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کرلیں۔ پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی۔ اور ان کے لیے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ کہو کیا تم نے اللہ کے پاس سے اس کے لیے کوئی عہد لے لیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔ یا اللہ کے اوپر ایسی بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ ہاں جس نے کوئی برائی کی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کئے، وہ جنت والے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۷۸ - ۷۵ کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو، اس کا انکار کرنے کے لیے آدمی کچھ نہ کچھ الفاظ پالیتا ہے۔ یہی تاویل و توجیہہ ہے اور یہی وہ سب سے بڑا اعتماد ہے جس کے اوپر آدمی حق کا انکار کرتا ہے۔ اسی تاویل و توجیہہ کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ یہ ذہنیت بالآخر اللہ کے معاملہ کی سنگینی کو دل سے نکال دیتی ہے ۔ آدمی خدا کے حکم کو سنتا ہے اور لفظی تاویلات کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا رہتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کا نام لیتا ہے مگر اس کی قساوت اس کو ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ فی الواقع یہ مانتا ہے کہ خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو اس کے عوام خوش گمانیوں میں جینے لگتے ہیں اور خواص کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ دین کو تجارت بنا لیتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے کوئی شخص دنیوی مال کو تجارت بناتا ہے، وہ عزت، شہرت، دولت کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ مگر ان کا خدا کی پکڑ سے بے خوف دل اس کو اس طرح بیان کرتا ہے گویا کہ یہی دین فطرت کا عین تقاضا ہے۔ اتنی بڑی ڈھٹائی پر ان کو کیا چیز آمادہ کرتی ہے، وہ یہ عقیدہ کہ جہنم کا عذاب ہمارے لئے نہیں ہے، وہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ اس خود ساختہ عقیدہ کے نتیجہ میں وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا اس سے بلند ہے کہ کسی سے جانب دارانہ وعدہ کرلے۔ جو چیز خدا کے شایان شان ہے وہ صرف یہ کہ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو اس کی صفت عدل کا تقاضا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page