شعوری عبادت مطلوب ہے نہ کہ بے روح عملیات
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
اللہ کی عبادت کرنا اور بندوں کو اپنی ایذا سے بچانا عز عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال سألتُ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلتُ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول کون سا اتی الاعمال افضلُ قال الصلاۃ علی میقاتها قلتُ کام افضل ہے۔ آپ نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا۔ میں ثم ماذا یا رسول اللہ ۔ قال ان يسلم الناس من نے پوچھا اے خدا کے رسول اس کے بعد کون سا کام افضل لسانكَ (ترغیب وترہیب بحوالہ طبرانی) ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ لوگ تمھاری زبان سے محفوظ رہیں ۔ اللہ کو پہچاننا سب سے بڑی عبادت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے (ای الاعمال افضل) آپ نے فرمایا: اللہ عز وجل کی معرفت (العلم باللہ عن وجل) آدمی نے دوبارہ پوچھا اے خدا کے رسول ! کون سا عمل افضل ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ عز و جل کی معرفت۔ آدمی نے کہا: اے خدا کے رسول ! میں آپ سے عمل کی بابت پوچھتا ہوں اور آپ علم کی بابت جواب دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان قليل العمل ينفع مع العلم وان كثير العمل علم کے ساتھ تھوڑا عمل زیادہ نفع دیتا ہے۔ جہل کے ساتھ لا ينفع مع الجهل جامع بيان العلم وفضلہ جزء اول صفحه) زیادہ عمل بھی نفع نہیں دیتا۔ دین میں اصل اہمیت کی چیز کردار ہے طبرانی نے عبد الرحمن بن حارث بن ابی مرد اس سلمیؓ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ نے وضو کا پانی منگایا ، اس میں ہاتھ ڈالے اور وضو کیا۔ ہم نے اس پانی کو لیا اور اس کو پی گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس فعل پر تھیں کس چیز نے آمادہ کیا۔ ہم نے کہا: اللہ اور رسول کی محبت۔ آپ نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو کہ تم اللہ اور رسول کے محبوب بنو تو تم یہ کرو کہ جب تم کو امانت سونپی جائے تو اس کو ادا کرو۔ جب بات کرو تو سچ بولو اور جو لوگ تمھارے پڑوس میں ہیں ان کے لئے اچھے پڑوسی ثابت ہو (فان احببتم ان يحبكم اللہ ورسوله فادوا اذا ائتمنتم واصدقوا اذا حدثتم و احسنوا جوار من جاورکم)
شعوری عبادت مطلوب ہے نہ کہ بے روح عملیات
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نماز، ان الرجل ليكون من اهل الصلاۃ والصوم والزکاة روزہ ، زکاۃ ، حج ، عمرہ کے عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپ نے والـ حج والعمرة حتى ذكر سهام الخير كلها ما يحيىٰ تمام اعمال خیر کا ذکر کیا پھر فرمایا : مگر قیامت کے دن وہ صرف يوم القيامة الا بقدر عقله (احمد) اپنی عقل کے بقدر بدلہ پائے گا۔
سب سے افضل عمل یہ ہے کہ اللہ کی یاد دل میں سمائی ہوئی ہو ابو نعیم (حلية الاولیاء جلد 1) نے سالم بن ابی جعد سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues