Al-Risala · September 1979 · page 31

ذکر ہر وقت کی نماز ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱

ابو سعد بن منیہ نے ایک سو غلام آزاد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا: بے شک یہ ایک بڑی بات ہے کہ آدمی اپنے مال سے سو غلاموں کو آزاد کرے۔ اور اگر تو چاہے تو میں تجھ کو ایسی چیز بتاؤں جو اس سے بھی زیادہ افضل ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ ایمان جو رات دن لپٹا ہوا ہو اور تمھاری زبان کا ہمیشہ اللہ کی یاد سے تر رہنا (ایمان ملزوم باللیل والنہار ولا يزال لسانك رطبا من ذكر الله عز وجل، ترغیب وترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۵)

ذکر ہر وقت کی نماز ہے

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال لا يزال الفقيه عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، عالم آدمی ہر وقت يصلي - قالوا وكيف يصلي - قال : ذكر الله تعالى على نماز میں رہتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیسے ہر وقت نماز قلبه ولسانه جامع بيان العلم وفضله، جزء اول ، ۵۳ میں رہتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا : اللہ کی یاد اس کے دل پر اور اس کی زبان پر نماز ادا کرنے والا اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھ کو نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا: اے سلمان ! اللہ سے ڈرو ۔ جان لو کہ جلد ہی فتوحات ہوں گی۔ اس میں سے تمھار ا حصہ دہی ہے جو تم اپنے پیٹ میں رکھ لو یا اپنے جسم پر ڈال لو۔ اور جان لو کہ جس نے پانچوں نمازیں ادا کیں وہ اللہ کی ذمہ داری میں صبح کرتا ہے اور اللہ کی ذمہ داری میں شام کرتا ہے۔ اور تم کسی اللہ کے بندے کو قتل نہ کرنا ورنہ اللہ اپنی ذمہ داری کو توڑ دے گا اور اللہ تم کو منہ کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا۔ (طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحہ ۱۴)

مسلمان کی حاجت پوری کرنا بہت بڑی عبادت ہے

طبرانی اور بیہقی نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں معتکف تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا : اے فلاں! تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ اس نے کہا، ہاں اے رسول اللہ کے چچازاد بھائی! میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے اور اس صاحب قبر کی عزت کی قسم، میں اس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا : کیا میں تمھارے بارے میں اس سے بات کروں ۔ آدمی نے کہا ہاں اگر آپ پسند کریں۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عباس رض نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے نکل کر روانہ ہوئے ۔ آدمی نے کہا : شاید آپ بھول گئے کہ آپ حالتِ اعتکاف میں ہیں ۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبد اللہ بن عباس رض کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ : من مشى في حاجة اخيه وبلغ فيها كان خيراله جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے لئے چلا اور اس میں کوشش من اعتكاف عشر سنين (الترغيب والترہیب جلد ۲) کی تو یہ اس کے لئے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے ۔ مفلس وہ ہے جو آخرت میں مفلس ٹھہرے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے کہا: کیا تم

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page