Al-Risala · January 1979 · page 43

عرب کارکستان : پٹرول سے بھی زیادہ بڑی دولت

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

”قرآن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی اصلیت میں کوئی شبہ نہیں۔ ہر حرف جو ہم آج پڑھتے ہیں، اس پر یہ اعتماد کر سکتے ہیں کہ تقریباً تیرہ صدیوں سے غیر مبدل رہا ہے (سلکشن فرام دی قرآن) جرمن محقق وان ہیم غیر مسلم مستشرقین کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” ہم قرآن کو محمد کا کلام اسی طرح یقین کرتے ہیں جس طرح مسلمان اس کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں“ اعجاز التنزیل، صفحہ ۵۰۰ عہد عثمانی تک قرآن کے جتنے نسخے لکھے گئے وہ سب خط حمیری میں تھے۔ حضرت علی کے زمانہ میں خط کی اصلاح ہوئی اور خط کوفی وجود میں آیا جو سابق خط کی ترقی یافتہ شکل تھا۔ حضرت علی کے ندیم خاص ابوالاسود الدولی (۶۹ھ) نے پہلی بار اس خط کو بنایا اور پھر بنی امیہ کے عہد میں اس کو مزید ترقی ہوئی۔ قرآن میں اعراب لکھنے کا آغاز بھی ابو الاسود دولی نے حضرت علی کے عہد میں کیا۔ اسی کی بنیاد پر حجاج بن یوسف نے بعد کو قرآن کے باقاعوہ معرب نسخے تیار کرائے۔ آج تک قرآن ٹھیک اسی نہج پر لکھا جارہا ہے۔

عرب کارکستان : پٹرول سے بھی زیادہ بڑی دولت

سورج کی گرمی کو قابو میں لاکر اس کو استعمال ذخیرہ لا محدود نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے اس سلسلے کیا جاسکتا ہے، یہ بات انسان کو بہت عرصہ سے معلوم میں بڑے پیمانہ پر تحقیقات شروع کر دی ہیں تھی ۔ مگر اس صنعت کو ترقی دینے میں ایک خاص رکاوٹ اس صحرائی ریاست کو ہر سال ۳۵۰۰ سے یہ تضاد تھا کہ وہ ممالک جو آفتابی حرارت کی زیادہ لے کر … سہ گھنٹے تک گرم سورج حاصل رہتا ہے۔ مقدار رکھتے ہیں وہ سب سے کم ترقی یافتہ تھے ۔ وہ اس طرح جو گرمی اس کو ملتی ہے اس کا اوسط روزانہ تقریباً اتنے ذرائع نہیں رکھتے تھے کہ اس صنعت کو ترقی دینے ۵۵۰ کیلوریز فی مربع سنٹی میٹر (550 cals/cm2/day) کی قیمت ادا کر سکیں۔ دوسری طرف دہ قومیں جو ترقی ہے، سعودی عرب کا سورج، طور پر اس کے لئے یافتہ ہیں اور وسائل کی مالک ہیں وہ اکثر سرد ممالک تیل سے بھی زیادہ بڑی دولت ہے۔ سعودی عرب کا میں اور زمین کے منطقہ حارہ سے دور واقع ہیں۔ مگر خیال ہے کہ ۲۰۰۰ء تک وہ آفتابی انرجی کے معاملہ اب صورت حال بدل گئی ہے۔ عرب ممالک جو گرم صحراؤں میں خود کفیل ہو جائے گا۔ یہ انرجی مختلف کاموں میں کے مالک ہیں، پٹرول نے ان کو دولت سے بھی مالا مال استعمال ہوگی۔ مثلاً سمندر کے پانی کو میٹھا بنانا جو کر دیا ہے۔

پینے کے لئے اور زراعت کے لئے استعمال ہو اور بجلی

سعودی عرب ایک بڑے سرمایہ کی لاگت سے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے۔ اس وقت سعودی انرجی (طاقت) کے متبادل ذریعہ کی تلاش کر رہا ہے۔ عرب میں چار بڑے انرجی پروجیکٹ تکمیل کے مرحلہ میں ہیں۔ سعودی عرب اس حقیقت سے واقف ہے کہ تیل کا سائنس نوڈلے، اکتوبر ۱۹۷۷ء

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page