حفاظتِ قرآن
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲
مقامات ہیں، مگر کبھی قرآن پڑھنے والوں کو یہ خل نہیں ہوا کہ بطور خود دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح وقفہ دے کر پڑھنا شروع کردیں ۔
آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے، اس کی صحت میں کسی فرقہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ حتیٰ کہ محقق شیعہ علماء بھی اس معاملہ میں متفق ہیں ، کتاب تاریخ القرآن لابی عبدالله الزنجانی شیعی (صفحہ ۴۷) میں نقل کیا ہے کہ علی بن موسیٰ المعروف بابن طاؤس (م ۵۸۹-۶۶۴) جو محقق شیعہ علما میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب سعد السعود میں شہرستانی سے نقل کیا ہے جو انھوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں سوید بن علقمہ سے روایت کیا ہے: قال سمعت علی بن ابی طالب یقول : ایها الناس ، اللہ وہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو یہ کہتے اللہ ، ایاکم والغلو فی امر عثمان وقولکم حراق ہوئے سنا۔ اے لوگو، اللہ اللہ ، عثمان کے معاملہ میں المصاحف - فواللہ ما حرقتها الا عن ملأ من غلو سے بچو۔ یہ نہ کہو کہ انھوں نے مصاحف کو جلایا ۔ خدا اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعنا کی قسم انھوں نے نہیں جلایا یا مگر اس وقت کہ انھوں نے وقال : ما تقولون فی هذه القراءة التی اختلفت صحابہ کی جماعت کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ تم قرآن میں الناس فیها، یلقی الرجل الرجل فیقول : قرأتی اختلاف قرات کے بارہ میں کیا کہتے ہو۔ ایک شخص دوسرے خیر من قرآتك ، وهذا یحیی الی الکفر، فقلنا سے ملتا ہے اور کہتا ہے ۔ میری قرأت تمھاری قرأت سے مالى ای، قال ارید ان اجمع الناس علی مصحف بہتر ہے ۔ اس قسم کی بات کفر تک جاتی ہے۔ صحابہ نے واحد، فانكم ان اختلفتم اليوم كان من بعد کم کہا آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا میں چاہتا ہوں اشد اختلافا، فقلنا نعم ما رأیت کہ میں لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردوں ۔ کیوں کہ تم اگر آج اختلاف میں پڑ گئے تو تمھارے بعد کے لوگ اور زیادہ اختلاف میں پڑیں گے۔ تمام صحابہ نے کہا ہاں ۔
آپ کی رائے سے ہم کو اتفاق ہے ۔
قرآن کا یہ ایسا وصف ہے جس کا معاندین تک نے اعتراف کیا ہے۔ سر ولیم میور لکھتے ہیں : محمد کی وفات کے ربع صدی بعد ہی ایسے مناقشات اور فرقہ بندیاں ہو گئیں جس کے نتیجہ میں عثمان قتل کر دیئے گئے ، اور یہ اختلافات آج بھی باقی ہیں۔ مگر ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہی ہے۔ ہر زمانہ میں یکساں طور پر سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پڑھنا، اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آج ہمارے سامنے وہی مصحف ہے جو اس بد قسمت خلیفہ (عثمان) کے حکم سے تیار کیا گیا تھا ، شاید پوری دنیا میں کوئی دوسری ایسی کتاب نہیں ہے جس کی عبارت بارہ صدیوں تک اس طرح بغیر تبدیلی کے باقی ہو، لائف آف محمد (۱۹۱۲) دیباچہ لین پول نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues