Al-Risala · September 1979 · page 43

اچانک موت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

اور "بجلی کی سرعت" کے ساتھ اس کو اپنی امداد پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے۔ کہ ملک کے اندر ہونے والے ظلم کو مٹانے کے لئے اتنا بہت زیادہ محنت اور قربانی مانگتا ہے ۔ جب کہ باہر کے ایک شخص کی مدد کرنے کے لئے چند لفظ بول دینے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

اسی واقعہ میں آپ مسلم قائدین کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آج ہمارے تمام قائدین کا یہ حال ہے کہ اگر ان کے قریب کا ایک آدمی اپنا ایک حقیقی مسئلے لے کر ان کے پاس جائے تو اس کو حل کرنے سے انھیں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔ کیونکہ اس قسم کے ایک عملی مسئلہ کو حل کرنے میں طرح طرح کی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا ، اس کی تمام نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلسل عملی جدوجہد کرنا ، ان تمام لوگوں کی دشمنی مول لینا جنھوں نے مذکورہ شخص کو مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ خود اپنے نفس پر لگام لگانا، کیونکہ اکثر اوقات مسئلہ پیدا کرنے میں خود یہ مسلم قائد بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا قائد اس قسم کے مسئلہ پر کبھی دھیان نہیں دیتا۔ البتہ ”دور“ پیدا ہونے والے مسئلہ پر وہ فوراً حرکت میں آ جاتا ہے ۔ کیوں کہ یہاں لفظوں کے ذریعہ اس کو وہ کریڈٹ مل رہا ہے جو مذکورہ مثال میں عمل اور قربانی کے ذریعہ ملتا ۔ اس کی یہ انسانی ہمدردی فوراً ایک شان دار بیان کی صورت میں اخبار کے صفحہ اول کی زینت بنتی ہے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ بڑے بڑے لوگوں سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرے ۔ وہ ہوائی جہاز میں اڑ کر جائے واردات پر پہنچے۔ وہ ایک شان دار کانفرنس کرکے اس کے اسٹیج پر ہیرو کے روپ میں نمایاں ہو۔ وہ ریلیف فنڈ کھولے اور دوسروں کی جیب سے پیسے نکال کر اس کا کچھ حصہ اپنی شانِ قیادت قائم کرنے میں خرچ کرے اور کچھ حصہ کو تقسیم کرکے اعانتِ مظلومین کا کریڈٹ لے۔ مزید یہ کہ ان کارناموں میں لیڈر کو اپنے پاس سے کچھ خرچ کرنا نہیں پڑتا۔ ٹیلی فون اور پٹرول اور ہوائی سفر سے لے کر پر تکلف دعوتوں اور عالی شان کانفرنسوں تک سارا بل قوم کی جیب سے ادا ہوتا ہے۔ شاید پوری انسانی تاریخ میں سستی قیادت کا اتنا کامیاب نسخہ کبھی کسی نے دریافت نہیں کیا تھا جو ہمارے قائدین کو خوش قسمتی سے موجودہ زمانہ میں ہاتھ آگیا ہے۔

یہ کیفیت جب مزید ترقی کرتی ہے تو حال یہ ہو جاتا ہے کہ اخلاقی دیوالیہ پن میں مبتلا ہونے والے لوگ ”طاقتور اخلاقی قیادت کا نعرہ لگاتے ہیں جن کے دل کے دروازے حق کو قبول کرنے کے لئے بند ہو چکے ہوتے ہیں وہ عوام کے دلوں پر دستک دینے کے لئے دوروں اور تقریروں کا طوفان برپا کرتے ہیں، جو اپنے دائرہ اختیار میں بدترین ظلم کو جائز کئے ہوئے ہوتے ہیں وہ خدا کی زمین کو ظلم سے پاک کرنے کا جھنڈا لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کی روحیں شرپسندی سے معمور ہوتی ہیں وہ خیر پسندوں کو منظم کرکے ملک کی کایا پلٹ دینے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔ جن کے سینے اپنے مخالفین کے خلاف نفرت اور انتقام سے بھرے ہوتے ہیں وہ دوسروں کو یہ پیغام دینے کے لئے قافلہ در قافلہ نکلتے ہیں کہ اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف اور انسانیت کا برتاؤ کرو۔

یہ جھوٹی قیادت صرف اس وقت تک ہے جب تک دنیا کی بساط الٹی نہیں جاتی۔ جب صور پھونکا جائے گا اور موجودہ دنیا کی بساط الٹ دی جائے گی تو تمام جھوٹی رونقیں اس طرح باطل ہو جائیں گی جیسے کہان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page