Al-Risala · September 1979 · page 42

اچانک موت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲

لاہور(پاکستان) کی ایک خاتون کینسر اور ذیاجیطس کے مرض میں مبتلا تھی۔ اس کے بھائی نے جی بی سی ریڈیو پر سناکہ ہندوستانی وزیرِاعظم مسٹر مرار بی ڈیسائی نے اس قسم کے مریضوں کا مجرب قدرتی علاج یہ بتایا ہے کہ وہ کثرت سے انگور کھائیں ۔ مذکورہ پاکستانی کو یہ نسخہ پسند آیا۔ تاہم چند باتیں اس کو وضاحت طلب معلوم ہوئیں: تازہ انگور نہ ملنے کی صورت میں کیا خشک انگور کھایا جاسکتا ہے ، کیا انگور کے طریق علاج پر عمل کرتے ہوئے انسولین (دوا) بھی مریضہ کو دی جاسکتی ہے ۔ مذکورہ پاکستانی نے مسٹر مرار بی ڈیسائی کو خط لکھا کہ وہ ان امور کے بارے میں اس کو ہدایات دیں۔ چند دن بعد ہندوستانی وزیرِاعظم کی میز پر جوڈاک رکھی گئی اس میں مذکورہ خط بھی شامل تھا۔ وزیرِاعظم اس کو پڑھ کر فورا حرکت میں آگئے ۔ مگر خط کے مطابق پاکستانی خاتون کی حالت بہت نازک تھی ۔ اس کو فی الفور' امداد پہنچانا ضروری تھا۔ اگر خط کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے تو اس کو منزل مقصود تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ مذکورہ پاکستانی کے لیٹر ہیڈنے اس مسئلہ کو حل کر دیا جس پر اس کا لاہور کا ٹیلی فون نمبر درج تھا وزیرِاعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ خط کے بجائے ٹیلی فون سے اپنا جواب پہنچائیں گے۔

عام حالات میں ہندوستان سے پاکستان ٹیلی فون ملانے میں کئی روز لگ جاتے ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال مختلف ہوتی ہے جب کہ وزیرِاعظم ہندوستان خود ٹیلی فون کر رہا ہو۔ اگلے ہی لمحہ لاہور میں مذکورہ شخص کے ٹیلی فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہندوستان کے وزیرِاعظم نے بسرعت اپنا قیمتی مشورہ پڑوسی ملک کے شہری تک پہنچا دیا تھا۔ تاہم یہ تیز رفتار امداد کام نہ آئی۔ پاکستانی خاتون اس سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔

پاکستانی مریضہ کے بھائی کو ہندوستانی وزیرِاعظم کی اس عنایت نے بہت متاثر کیا۔ اس نے وزیرِاعظم کو شکریہ کا خط لکھا۔ خط میں درج تھا :

I am much obliged and overwhelmed by your nobility. You are every inch a gentleman. The members of my family and I are all appreciation for you. I do not tire of telling my friends: here is the finest specimen of humanity and humanism The Times of India, May "میں آپ کی شرافت سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں اور آپ کا بہت شکر گزار ہوں ۔ آپ ایک ایک انچ ایک اعلیٰ انسان ہیں ۔ میں اور میرے گھر کے سب لوگ آپ کے بے حد قدر داں ہیں ۔ میں اپنے دوستوں کو یہ بتاتے ہوئے نہیں تھکتا : یہ انسان اور انسانیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ “ (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ مئی ۱۹۷۹)

ایک وزیرِاعظم کے اپنے ملک میں انتہائی وحشیانہ طور پر بے گناہ مردوں اور عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ ان کی معاشیات کو منظم طور پر برباد کیا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری بنا دیا جاتا ہے مگر وزیرِاعظم کو ان امور میں اپنا حصہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ باہر کے ایک شخص کی مصیبت کو سن کر وہ بے تاب ہو جاتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page