ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۵
ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں
ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسانوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ عنقریب ہم خدا سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ہم دنیا میں عزت اور کامیابی ڈھونڈ رہے ہیں ۔ حالاں کہ بہت جلد ہم آخرت میں داخل ہونے والے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے مگر ہر شخص زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہے، موت کے مسائل کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔ وہ اسلام جس نے اصحاب رسول کو سراسیمہ بنا دیا تھا وہ اسلام آج لوگوں کو صرف قناعت اور بے فکری کا تحفہ دے رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس کی وجہ ترزمین (فاطر ۸) ہے۔ ہر آدمی کو کچھ ایسے الفاظ مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی غیر اسلامیت کی خوبصورت اسلامی توجیہ کر سکے۔ ہر آدمی نے اپنے گرد خوش خیالیوں کا ایک گھروند بنا لیا ہے اور اس کے اندر وہ جی رہا ہے۔ اس کو یہ احساس نہیں کہ موت کا دھماکہ اچانک اس کے گھروندے کو توڑ دے گا اور اس کے بعد اس کے پاس ایک تنکا بھی نہ ہوگا جس سے وہ خدا کے غضب کے مقابلہ میں اپنا بچاؤ کر سکے۔ ایک قائد ملت ایک مسلمان کے اوپر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اپنے ظالم ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ جلسوں میں اور اخبارات کے صفحات میں اپنے کو اسلام کا چیمپین بنا ہوا دیکھتا ہے۔ اس کے لئے ناقابل قیاس ہو جاتا ہے کہ ایک شخص جو دنیا میں ناخدا ئے ملت بنا ہوا دکھائی دے رہا ہو وہ آخرت میں ظالم ملت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ ایک لیڈر مسلمانوں کے درمیان ایسی سیاست چلاتا ہے جس سے مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔ ملک کی دینی لاز تعمیری سرگرمیاں تہس نہس ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر قائم ہوتی ہے کہ اسلام دہشتوں کا مذہب ہے جو آپس میں لڑائی جھگڑے کے سوا اور کچھ نہیں سکھاتا۔ اس کے با وجود لیڈر کی راتوں کی نیند نہیں چھنتی۔ اس کا دن کا سکون غارت نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ اپنی زبان و قلم کے ذریعہ اس نے جو اشاعتی کارنامے انجام دئے ہیں وہ اس کو لاکھوں معتقدین کے درمیان نجات دہندہ اسلام بنائے ہوئے ہیں۔ اپنی علمی اور تقریری خدمات کی بدولت وہ ایک اسلامی ہیرو کی سی زندگی گزار رہا ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لئے ناقابل فہم بن جاتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو بے قیمت ۔ قرار دے دیا جائے ، دنیا میں اعزازات پانے والا آخرت میں صرف محرومی کی خندق میں ڈال دیا جائے۔ اسی طرح ایک شخص وعدہ خلافی کرتا ہے ، اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے۔ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ لین دین میں اس کے معاملات لوگوں سے صاف نہیں ہیں۔ اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ جنت اس کے لئے رزرو جیسے اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہ دیکھتا ہے کہ میں نماز روزہ کا اہتمام کر رہا ہوں ۔ حج کی سعادت بھی میں نے حاصل کرلی ہے۔ مسجد اور مدرسہ کے چندہ دہندگان میں بھی میرا نام چھپا ہوا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے ایک دین دار آدمی کا بھی یہ انجام ہو سکتا ہے کہ آخرت میں وہ بے دین قرار دے کر خدا کی رحمتوں سے دور پھینک دیا جائے۔
حقیقی خدا پرستی جو آخرت میں آدمی کے کام آئے گی وہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues