Al-Risala · September 1979 · page 46

ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۶

اس کے صبح و شام کا نگران اور حاکم بن جائے ۔ وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے۔ اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔ جب آدمی اس طرح خدا پرست بنتا ہے تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرد کے معاملہ میں بے انصافی کرنے سے اس طرح ڈرتا ہے جیسے وہ ساری دنیا کے ساتھ بے انصافی کر رہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان تخریب کا ایک واقعہ دیکھ کر اس طرح سہم جاتا ہے جیسے اس نے سارے مسلمانوں کو تیغ کر دیا ہے۔ کسی شخص کے ساتھ ایک بار بد معاملگی ہو تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی تمام عبادات اور قربانیاں باطل ہو گئی ہیں ۔ لوگ خوش فہمیوں میں جی رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف حقائق ہیں جو آدمی کے کام آتے ہیں ، خواہ دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا معاملہ۔

۳ جون ۱۹۷۹ء کو راقم الحروف میرٹھ میں تھا۔ شام کے وقت صدر بازار کی سڑک پر میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی ایک ساتھ جارہے تھے۔ اچانک ایک مکان کے آگے کا حصہ ہمارے سامنے گر پڑا۔ اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ ہم دونوں بمشکل اس سے پانچ سیکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سیکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ سیکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے ۔ میں نے سوچا: آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ کسی بھی آدمی کے لئے ہر لمحہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کا ’’پانچ سیکنڈ‘‘ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔

آدمی کے ذہن پر اگر یہ بات چھا جائے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف ”پانچ سیکنڈ“ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بدل جائے۔ وہ بالکل دوسرے قسم کا انسان بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے، ایسی موت جس کے معاً بعد آدمی ، حدیث کے لفظوں میں، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جاگرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ ٭ قرآن، درسیات اور ہر قسم کی کتابوں کے لئے لکھئے الدار العلميه بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ، دہلی پھول کی طرح تر و تازہ اگر جلدی امراض یا فساد خون کی شکایت ہو تو چہرہ پژمردہ نظر آتا ہے خون صفا پھوڑے پھنسی خارش اور داد سے نجات دے کہ جسم اور چہرے کو پھول کی طرح تر و تازہ رکھتا ہے دوا خانہ طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page