زمین: اللہ کی عجیب وغریب نعمت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۵
جن کی کبریائی مسلم ہو چکی ہے۔ اگر یہ سچائی ہے تو وہ ایک ہی شخص پر کیوں اتری، ہم میں سے ہر شخص کے پاس خدا کا ایک کھلا خط کیوں نہ آگیا۔ وغیرہ ۔ مگر یہ سب کوئی واقعی مطالبہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ حق اور ناحق کو جاننے کے معاملہ میں وہ سنجیوہ نہیں ہیں۔ ان کے حالات نے ان کو جس مذہب تک پہنچادیا ہے، اس کو وہ پکڑے ہوئے ہیں۔ اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے انھوں نے ایک دین گھڑ لیا ہے اور کوئی ہم خیال لوگوں کو اپنے گرد جمع کرکے اس کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے مفاد اور اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں اس لئے اس کے تقاضے وہ خوب سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس حقیقی سچائی کے معاملہ میں وہ سنجیدہ نہیں، اس لئے روشن دلائل اور واضح تصدیقات کے باوجود وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ دنیا کے اندیشہ کو وہ جس طرح محسوس کرتے ہیں اسی طرح دہ آخرت کے اندیشے کو محسوس کرتے تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو فوراً نہیں بدکتے۔ وہ ابتدائے دعوت کو پسند کرتے ہیں۔ وہ داعی کے اعلیٰ اسلوب اور اس کے پیغام کی عمومی کشش کی وجہ سے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ اپنی نصیحتی کمزوری سے اوپر اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ چنانچہ کچھ نہ کوئی وقت ایسا آجاتا ہے جب کہ وہ کسی چیز کو اپنے خلاف مزاج پا کر بدک جاتے ہیں اور پھر ایسا بھاگتے ہیں کہ واپسی کا نام نہیں لیتے۔ جب کبھی ان کے ان تعصبات پر زد پڑتی ہے جن کو انھوں نے عرصہ سے پال رکھا ہے۔ جب ان کی چھپی ہوئی وفاداریوں میں سے کسی وفاداری کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ جب دعوت ان کی اس "انا" کو چھو دیتی ہے جس کو وہ خدا پرستی کے ظاہری پردہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھے تو اچانک وہ متوحش ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے کے بجائے خود دعوت کو قابل نظر ثانی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ کسی شخص کی زندگی میں بہت نازک لمحہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی فطرت زندہ ہے تو وہ زور کرے گی اور ابتدائی توحش کے بعد دوبارہ وہ حق کی رسی کو پہلے کی طرح مضبوطی سے پکڑے گا اور اگر فطرت کی چنگاری بجھ چکی ہے تو وہ ایک بار بدکنے کے بعد بدکتا ہی جائے گا اور پھر کبھی واپس نہیں ہوگا۔ اللہ نے یہ دنیا امتحان کے لئے بنائی ہے۔ اس لئے حق کو یہاں بالکل عیاں شکل میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اس پر شبہ کا پردہ رکھ کر اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے شخص کی زبان سے بلند ہوتا ہے جو خود انھیں جیسا ایک انسان ہوتا ہے۔ پیغام کو انسانی زبان میں بیان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ آدمی اس کو رد کرنے کے لئے کچھ خوبصورت الفاظ تراش لے۔ اس آواز کو ہمیشہ ظاہری حیثیت سے غیر اہم حلقوں سے اٹھایا جاتا ہے تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ آدمی معنوی حقیقتوں کو اہمیت دیتا ہے یا ظاہری تماشوں کو۔ حق کا پیغام ایک نصیحت ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ نفسیات ہی کی زبان میں سامنے لایا جاتا ہے نہ کہ کسی مجبور کر دینے والے اسلوب میں۔ بہت سے دلائل محض غافل قلب سے نکلے ہوئے بے معنی الفاظ ہوتے ہیں نہ کہ حقیقتہ دلائل ۔ جو آخرت سے ڈرنے والے ہیں وہ اس احساس کے تحت بولتے ہیں کہ ان کی ہر بات کا سننے والا سب سے پہلے خدا ہے۔ وہ الفاظ رکھتے ہوئے بھی بے الفاظ ہو جاتے ہیں۔ کجا کہ اپنی ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لئے الفاظ کا قاموس دہرانے لگیں۔ |
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues