Al-Risala · October 1979 · page 4

زمین: اللہ کی عجیب وغریب نعمت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴

کی وہ بدکے ہوئے جنور ہیں جو وپس آن نہیں جنتے ـــــــ فَمَ لَهُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ ا فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃِ ا بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ا کَلَّا بَلْ لَّا یَخَافُونَ الْاٰخِرَۃَ ا کَلَّا اِنَّہٗ تَذْکِرَۃٌ ا فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ ا (مدثر، آخر)

ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں۔ جیسے کہ وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں جو شور سن کر بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے ورق دئے جائیں۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ ہر گز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پھر جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اللہ اپنے دین کی پیغام بری کے لئے ہمیشہ ایسے شخص کو چنتا ہے جس کے جاننے والے اس کو ایک پسندیدہ شخص کی حیثیت سے جانتے ہوں۔ جس کی صالحیت اور صلاحیت کی وجہ سے اس کے لوگوں نے اس کے بارے میں اونچی اونچی امیدیں باندھ رکھی ہوں (ہود ۶۲) مگر جب وہ حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اچانک لوگ اس سے بدک جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے اور بے آمیز حق انسان کے لئے ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض چیز رہا ہے۔ پیغمبری کی بے آمیز دعوت ان تمام لوگوں کو متوحش کر دیتی ہے جو ملاوٹی دین یا خود ساختہ مذہب کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کئے ہوئے تھے۔ انسان کی گمراہی کبھی یہ نہیں رہی ہے کہ وہ ناحق کا علم بردار بن کر کھڑا ہوا ہو۔ انسان کی گمراہی یہ ہے کہ وہ حق کے ساتھ ناحق کو ملائے ہوئے ہو۔ وہ حق کا نام لے مگر اسی کے ساتھ اپنی عقیدتوں اور وفاداریوں، کو اس نے ناحق کے لئے خاص کر رکھا ہو۔ پیغمبری کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر ایک کو اس میں اپنا حقیقی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہر ایک کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے اس نازک مقام پر ضرب لگارہی ہے جہاں وہ حقیقۃً جی رہا تھا۔ ___ کسی کو اپنی شخصیت کا بت گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے دلائل کا غبارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے، کسی کو اپنی شان وشوکت بے رونق ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو ایسا لگتا ہے کہ اگر اس نے اس حق کو مان لیا تو اس کو اپنے بنے بنائے ڈھانچہ کو اجاڑ دینا پڑے گا۔ ان وجوہ سے لوگ اس کی آواز سے اس طرح بدک جاتے ہیں جیسے کوئی تصویری شیر اچانک زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے اور لوگ اس کے مہیب وجود کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔

تا ہم بد کے ہوئے لوگ اپنے کو بر سر حق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں: سچائی کے اعلان کے لئے کیا اسی معمولی شخص کا انتخاب کیا جانا تھا، اس کے بجائے ان " اکابر " کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page