اللہ کے ذکر سے ان کے دل دہل جاتے ہیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱
عین مصلحت نظر آتی ہے، ایک بظاہر نقصان کا طریقہ خدا کا حکم بننے کے بعد عین فائدے کی چیز معلوم ہوتا ہے۔ ایک بظاہر نفس پر شاق گزرنے والا معاملہ خدا کی مرضی کا درجہ پانے کے بعد عین مطلوب چیز بن جاتا ہے۔ وہ دنیوی بھروسوں کو نظر انداز کر کے خدا کے بھروسے پر چل پڑتا ہے۔ وہ ظاہری مصالح سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دیتا ہے۔
ایمان کا مطلب ہے کسی چیز کو ماننا، اس کا یقین کرنا۔ اگر آپ کے سامنے ایک پنسل پڑی ہو اور آپ اس کو دیکھ کر کہیں کہ یہ پنسل ہے، تو گویا کہ آپ نے پنسل کے وجود کا اقرار کیا۔ مگر پنسل کی موجودگی کا اقرار آپ کے دل کے اندر کوئی ہل چل نہیں پیدا کرے گا۔ آپ ” یہ پنسل ہے “ کہہ کر بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے آپ اس کے کہنے سے پہلے تھے۔ لیکن اگر آپ کے کمرہ میں اچانک ایک بڑا سانپ نکل آئے اور آپ اس کو دیکھ کر کہیں کہ ” یہ سانپ ہے، تو یہ دوسرا جملہ بھی اگر وہ محض اقرار کا جملہ ہے، مگر یہ آپ کے تمام شعور کو متحرک کر دے گا اور آپ کی شخصیت کو ہلا دے گا۔ کیوں کہ پنسل ایک بے ضرر لکڑی ہے۔ جب کہ سانپ ایک خوفناک جانور ہے اور آپ کی ذرا سی غفلت بھی آپ کو اس کا شکار بنا سکتی ہے۔
”ایمان“، بظاہر منھ سے کچھ الفاظ بولنے کا نام ہے۔ مگر ایمان کا تعلق جس چیز سے ہو اس کی مناسبت سے دل میں اثر پیدا ہونا ضروری ہے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے خدا کے وجود کا اقرار کیا، میں اس پر ایمان لایا، تو آپ تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس مالک کا ئنات کو جاننے اور ماننے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں جس کا انجام بھی بہت بڑا ہے اور جس کی سزا بھی بے حد سخت ہے، ایسے خدا کا اقرار، اگر چہ فی الواقع اقرار ہو، تو آپ کی پوری شخصیت کو ہلا دے گا۔ اس کا نام سن کر آپ کا دل دہل اٹھے گا۔ اس کے کلام کے آگے آپ ڈھ جائیں گے ۔
مذکورہ آیت مال غنیمت کا حکم بیان کرنے کے ذیل میں اتری ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ مال غنیمت میں کس کا کتنا حصہ ہے۔ مگر اس کا حکم بتانے سے پہلے کہا جاتا ہے کہ ” اللہ سے ڈرو“ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ یا اسلامی نظام قائم ہونے کا انحصار سب سے زیادہ کس چیز پر ہے۔ وہ اس پر ہے کہ معاشرہ میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اگر لوگوں کے اندر اللہ کا ڈر سمایا ہوا نہ ہو تو کسی قسم کا قانونی نفاذ یا کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی تدبیر معاشرہ کے اندر اسلامی نظام بر پا کرنے کی ضامن نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ مینڈکوں کی پنسہری بنانا چاہیں تو وہ کبھی نہیں بنے گی۔ کیوں کہ آپ چند مینڈک پکڑ کر ترازو کے پلہ میں رکھیں گے تو دوسرے چند مینڈک پھدک کر باہر جا چکے ہوں گے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ انسان ایک بے حد سرکش مخلوق ہے جو کسی طرح اپنے کو قابو میں آنے نہیں دیتا۔ جو بھی خارجی تد بیر اس کو قابو میں لانے کی کی جاتی ہے اس سے وہ کسی نہ کسی طرح نکل بھاگتا ہے۔ آدمی کو قابو میں لانے والی واحد چیز یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو اس کو یہ اندیشہ لگا ہوا ہو کہ اگر اس نے بے انصافی کی تو موت کے بعد خدا کا عذاب اس کو پکڑلے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues