دُشمن اچنبھے میں پڑ گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲
دُشمن اچنبھے میں پڑ گیا
غزوہ خندق (۵ھ) کے موقع پر مشرکین کی ۱۰ ہزار فوج نے ابوسفیان کی سرداری میں مدینہ پر چڑھائی کی تھی۔ جب وہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے اور وہاں شہر کے کنارے گہری خندق کھدی ہوئی دیکھی تو ابوسفیان نے کہا: والله ان ھذہ لمکیدۃ ماکانت العرب تکیدھا خدا کی قسم یہ ایک ایسی تدبیر ہے جیسی تدبیر کرنا ابھی تک عرب نہ جانتے تھے۔
گویا اس زمانہ کے مسلمان تدبیر اور طریق عمل میں اتنا زیادہ آگے تھے کہ ان کے مخالفین ان کی تدبیروں کو دیکھ کر پکار اٹھتے تھے: ہم تو ابھی تک ایسی تدبیروں سے واقف بھی نہ تھے۔
جو آگے تھا وہ پیچھے ہو گیا
فرانسیسی مورخ والٹیئر نے لکھا ہے کہ پہلی گھڑی جس سے یورپ واقف ہوا وہ مسلم خلیفہ ہارون الرشید کی گھڑی تھی جو اس نے ۸۰۷ء میں بطور تحفہ فرانس کے بادشاہ شارلیمان کو بھیجی۔ یورپ کے لئے وہ اس زمانہ میں بالکل نئی چیز تھی۔ دربار کے لوگوں نے جب اس کو دیکھا تو وہ حیران ہو کر رہ گئے۔ مگر سترھویں صدی میں جب مشینی دور شروع ہوا اور اسپرنگ کلاک وجود میں آیا تو اس کا موجد یورپ تھا۔ اب صورت حال بالکل بدلی ہوئی تھی۔ یورپ کے تاجرا سپرنگ دار گھڑیاں یورپ سے لے آتے اور ہندوستان کے مغل شہزادے ان کو شوق کے ساتھ خریدتے اور کثرت سے استعمال کرتے۔ یورپ کے حکمرانوں نے بغداد کے مسلم کاریگروں کی بنائی ہوئی گھڑیوں کو نہ صرف حیرت کے ساتھ لیا بلکہ ان کو سمجھ کر ان کو ترقی دینے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس کے برعکس مغل حکمرانوں نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ اسپرنگ کلاک کیا چیز ہے۔ وہ صرف اتناہی جانتے تھے کہ یورپی تاجروں کے ذریعہ ان کو مہنگے داموں خرید لیں یا بطور تحفہ وصول کرکے ان کو اپنے محل کی زینت بنائیں۔
تاریخ جو انقلاب نہ بن سکی
میں اپنے ایک رفیق کے ساتھ دہلی کے لال قلعہ کے پاس پارک میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہمارے ایک طرف شاہجہاں (۱۶۶۶ - ۱۵۹۲) کا تعمیر کردہ قلعہ اپنی سرخ دیواروں کے ساتھ دور تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسری طرف جامع مسجد کی سرخ عمارت کھڑی ہوئی تھی۔ ان دونوں کے درمیان وسیع دوطرفہ سڑک پر ٹریفک کا طوفان برپا تھا۔ ”یہاں تاریخ سرخ پتھروں میں ڈھل گئی ہے“ میری زبان سے نکلا۔ میں ابھی دوسرا جملہ سوچ رہا تھا کہ سامنے کی مصروف سڑک پر دوڑتی ہوئی مشینی سواریوں نے اپنی پرشور زبان میں اس کو پورا کر دیا: ”مگر یہ تاریخ متحرک انقلاب کی صورت اختیار نہ کر سکی! اور میں نے دیکھا کہ دوڑتی ہوئی سواریوں کے کنارے سرخ پتھروں کی کھڑی ہوئی عمارتیں خاموش زبان سے اس کا اقرار کر رہی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues