اصل وجہ: شکایت پر ایکشن نہ لینا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳
اصل وجہ: شکایت پر ایکشن نہ لینا
ہندوستان کی سپریم کورٹ کے جج مسٹر جسٹس وی۔ آر۔ کرشنا آئیر اور مسٹر جسٹس پی۔ این سنگھل نے حال میں قتل کے ایک مقدمہ میں اپیل پر اپنا فیصلہ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے دہلی پولیس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے :
One blackguardly policeman is worse than ten notorious criminals. When the agencies of law entrusted with the high duty of prevention of crime, protection of victims, and tracking down of violent offenders themselves became a party to the plot and betray the public, the rule of law hangs limp and the people stand scandalised. The Hindustand Times, August 15, 1979 ایک شریر سپاہی دس بدنام مجرموں سے زیادہ تباہ کن ہے۔ قانون کے ادارے جن کو جرم روکنے، ستم زدہ کی حفاظت کرنے اور ظالموں کو پکڑنے کی عظیم ذمہ داری سونپی جاتی ہے، وہ خود مجرمانہ سازش میں ایک فریق بن جائیں اور عوام سے غداری کریں تو قانون کی حکومت بے اثر ہو جاتی ہے اور عوام ذلیل و رسوا ہو کر رہ جاتے ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی کے بارے میں اس قسم کے تبصرے بار بار اعلیٰ شخصیتوں کی طرف سے آتے رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود انتظامی خرابیوں کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ اس کا جواب معلوم کرنا نہایت آسان ہے۔ بدعنوانی کے واقعات، جو روزانہ اور ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے کسی واقعہ کو لے کر آپ متعلقہ افسریا وزیر محکمہ کے پاس جائیں۔ بار بار دوڑنے کے باوجود آپ کی کوشش بالکل بے نتیجہ رہے گی۔ اس وقت آپ جان لیں گے کہ صورت حال کی اصلاح نہ ہونے کی وجہ صرف ایک ہے: اعلیٰ ذمہ داروں کا معاملات پر کوئی کارروائی نہ کرنا۔ شکایتوں پر اگر فوراً کارروائی کی جانے لگے تو چند دن میں جرائم کا خاتمہ ہو جائے ۔
ایک تاثر
اللہ کی زمین پر شاید کوئی اللہ کا پرستار نہیں رہا۔ ہر ایک نے اپنے سینہ میں کوئی نہ کوئی بت چھپا رکھا ہے۔ ہر ایک کسی نہ کسی غیر اللہ کی عقیدت و محبت میں مبتلا ہے۔ وہ اسی وقت تک خدا پرست نظر آتا ہے جب تک اس کی نازک نفسیات کو چھیڑا نہ گیا ہو۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے چھپے ہوئے بت پر زد پڑتی ہے۔ جب اس کی عقیدتوں کا غبارہ مجروح ہوتا ہے تو وہ بلبلا اٹھتا ہے ۔ وہ طیش میں آکر اپنا لبادہ اتار پھینکتا ہے ۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقتہً خدا کا پرستار نہ تھا بلکہ غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھا۔ اگر چہ اوپر سے خدا پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا ۔ (۴ ستمبر ۱۹۷۹ء)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues