Al-Risala · October 1979 · page 15

اصل وجہ: شکایت پر ایکشن نہ لینا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

کو حساب کی ترازو میں کھڑا کر لیتے ہیں۔ خدا کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت کو اس وقت سے پہلے تسلیم کر لیتے ہیں جب کہ خدا اپنے جلال و جبروت کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا اور کسی کے لئے ماننے کے سوا چارہ نہ ہوگا ۔ حالت غیب میں جو شخص اس طرح اللہ کا اقرار کرلے وہ امتحان میں پورا اترا ۔ آخرت میں جب اللہ اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا تو ایسے بندوں کو وہ اپنی رحمتوں سے مالا مال کر دے گا اور یہی اصلی اور حقیقی کامیابی ہے۔ مگر اللہ نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ اگر خدا کے بندوں کی کوئی قابل لحاظ تعداد تقویٰ کی اس روش کو عملاً اختیار کرلے تو اس کی کامیابیوں کا آغاز اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں دنیا ئیں خدا کی دنیا ہیں اور جو حقیقت پسندانہ اوصاف آدمی کی آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں، وہی حقیقت پسندانہ اوصاف دنیا کی کامیابی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ نہ انسان کو ذاتی طور پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ دراصل اللہ کی نصرت ہے جو کسی کو کامیاب بناتی ہے۔ اللہ کی نصرت ہی آدمی کو آخرت میں کامیاب بنائے گی اور وہی آدمی کی دنیا کو بھی کامیاب بنانے والی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آخرت میں آدمی کے انفرادی عمل کے مطابق اس کو کامیابی دی جائے گی۔ ایک شخص اگر ذاتی طور پر سچا مومن ہے تو محض اپنے ذاتی ایمان کی بدولت وہ آخرت کی کامیابی کا مستحق قرار پا جائے گا۔ مگر دنیا میں اہل ایمان کی کامیابی (غلبہ) کا انحصار اجتماعی ایمان پر ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کو اسی وقت غلبہ اور سربلندی حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ قابل لحاظ تعداد میں سچی خدا پرستی کی شرائط کو پورا کر رہے ہوں ۔

دنیا میں سربلندی حاصل کرنے کے لئے کس قسم کے افراد کا مجموعہ درکار ہے۔ اس کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو اپنے آپ کو اس مقام پر رکھنے کے لئے راضی ہو جائیں جو کہ باعتبار حقیقت ان کا مقام ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں آدمی کا مقام عجز ہے۔ اس لئے ہر آدمی اللہ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر عاجز محسوس کرے۔ وہ گھمنڈ اور خودرائی سے اپنے کو پاک کرلے۔ بندے کے مقابلہ میں آدمی کا مقام برابری کا ہے۔ ہر آدمی کا باعتبار حقیقت وہی درجہ ہے جو کسی دوسرے آدمی کا ہے۔ عزت، دولت، اقتدار یا نسلیت اور قومیت کی بنا پر ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے دو آدمیوں میں اس قسم کا فرق کتنا ہی زیادہ پایا جائے مگر دونوں آدمی اپنے کو یکساں درجہ کا انسان سمجھیں، کوئی شخص نہ احساس کمتری کا شکار ہو اور نہ احساس برتری کا۔ ان اوصاف کے پیدا ہونے کا سر چشمہ صرف ایک ہے اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ اللہ سے ڈرنے والوں میں یہ خصوصیات سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی لئے وہ دنیا کا نظام بھی سب سے زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکتے ہیں۔ اور اس لئے وہ سب سے زیادہ اللہ کی نصرت کے مستحق بنتے ہیں۔ ان کا تقویٰ ان کو عجلت پسندی ، ذاتی نمود و نمائش، باہمی عداوت اور بے انصافی سے پاک کر دیتا ہے۔ ان کے حوصلے اور تمنائیں دنیوی چیزوں کے بجائے اخروی چیزوں میں لگ جاتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اوصاف پیدا ہو جائیں ان کو خدا کی اس دنیا میں کوئی چیز کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page