Al-Risala · October 1979 · page 16

تو بہ وہی ہے جو سنجیدہ فیصلہ بن جائے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۶

تو بہ وہی ہے جو سنجیدہ فیصلہ بن جائے

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ه وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (نساء ۱۷ - ۱۸)

اللہ ضرور ان کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانی سے برا کر بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ توجہ فرماتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے، حکمت والا ہے۔ اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو برائی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی توبہ جن کو حالت کفر پر موت آتی ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ توبہ کے اصل معنی متوجہ ہونے کے ہیں۔ آدمی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اللہ کے سامنے حاضری کا احساس اس کے اندر شدید ندامت کا جذبہ پیدا کرے ۔ وہ بیتابانہ طور پر چاہنے لگے کہ دوبارہ اس سے ایسی برائی سرزد نہ ہو۔ تو اس کو شریعت میں توبہ کہتے ہیں۔ قرآن کے مطابق مطلوب توبہ وہ ہے جو توبہ نصوح ہو۔ نصوح کے معنی خالص۔ عربی میں کہتے ہیں نَصَحَ العسَلُ یعنی شہد کو صاف کرکے اصلی شہد بنانا ۔ توبہ نصوح وہ توبہ ہے جو سچی توبہ ہو جو سنجیدہ فیصلے کے تحت پیدا ہوئی ہو۔

حدیث میں آیا ہے : الندم توبة ( اخرجہ احمد وابن ماجه عن عبداللہ بن مسعود مرفوعاً) اس سے معلوم ہوا کہ توبہ کی اصل ندامت و شرمندگی ہے ۔ شرمندگی کا احساس جتنا شدید ہوگا، آدمی کی توبہ اتنی ہی سچی اور خالص ہوگی ۔ جب آدمی غلطی کر کے تڑپ اٹھے اور خدا کے یہاں باز پرس کا احساس اس کو بے چین کردے تو اس کی تو بہ محض چند الفاظ کو زبان سے بول دینا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی پوری ہستی کے لئے ایک نئی زندگی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ احساس گناہ سے شدید طور پر شرمندہ ہوتا ہے ، وہ بے تابانہ اللہ سے معافی مانگتا ہے۔ وہ عزم کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسا نہ کرے گا۔ وہ فورا اپنی اصلاح میں لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرتا ہے۔ جو حقوق پامال ہوئے تھے ان کی ادائیگی کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس کی ساری تو جہ اس ایک سوال پر لگ جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو سابقہ غلطیوں سے مکمل طور پر پاک کر ڈالے۔ امام حسن بصری نے فرمایا : التوبة النصوح ان تبغض الذنب كما اجسبته وتستغفر منه اذا ذكرته یعنی سچی توبہ یہ ہے کہ برائی سے تم کو نفرت ہو جائے حب طرح اس سے پہلے اس سے محبت تھی اور جب برائی یاد آئے تو اللہ سے اس کے لئے مغفرت مانگو ( ابن کثیر)

توبہ کا سب سے نازک امتحان وہ ہے جب کہ ایک آدمی کو دوسرے سے شکایت ہو جائے اور

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page