جب اعمال اکارت ہو جائیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ تم اپنوں کے خون نہ بہاؤ گے ۔ اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو۔ پھر تم ہی ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ ان کے مقابلہ میں ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو۔ حالاں کہ خود ان کا نکالنا تمھارے اوپر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الہیٰ کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے۔ اور اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں جو تم کر رہے ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ پس نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مدد پہنچے گی ۸۴ - ۸۶ قدیم مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کے جاہلی تعصبات نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل۔ اوس اور خزرج کے ساتھ مل گئے تھے۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے قبیلہ اوس کا ساتھ پکڑ لیا تھا۔ بنو قینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بنے ہوئے تھے۔ اس طرح دو گروہ بن کر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث اسی قسم کی ایک جنگ تھی جو ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے واقع ہوئی ۔ ان لڑائیوں میں یہود مشرک قبائل کے ساتھ مل کر دو محاذ بنا لیتے ایک محاذ میں شامل ہونے والے یہودی دوسرے محاذ میں شامل ہونے والے یہودیوں کو قتل کرتے اور ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے۔ پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو وہ تورات کا حوالہ دے کر اپنے ہم مذہبوں سے چندہ کی اپیلیں کرتے تاکہ اپنے گرفتار بھائیوں کو فدیہ دے کر مشرک قبائل کے ہاتھ سے چھڑایا جا سکے۔ انسان کے جان و مال کے احترام کے بارے میں وہ خدا کے حکم کو توڑتے اور پھر اپنی ظالمانہ سیاست کا شکار ہونے والوں کے ساتھ نمائشی ہمدردی کر کے ظاہر کرتے کہ وہ بہت دیندار ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو ناحق قتل کر دیا جائے اور اس کے بعد شرعی طریقہ پر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے شریعت کے اصلی اور اساسی احکام آدمی سے جاہلی زندگی چھوڑنے کے لئے کہتے ہیں۔ وہ اس کی خواہش نفس سے ٹکراتے ہیں۔ وہ اس کی دنیا دارانہ سیاست پر روک لگاتے ہیں، اس لئے آدمی ان احکام کو نظر انداز کرنا ہے۔ وہ حقیقی دین داری کے جوئے میں اپنے کو ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ معمولی اور نمائشی چیزوں کی دھوم مچا کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر پوری طرح قائم ہے۔ مگر یہ خدا کے دین کا خود ساختہ ایڈیشن تیار کرتا ہے۔ یہ دین کے اتھردی پہلو کو نظر انداز کرتا ہے اور دین کے بعض وہ پہلو جو اپنے اندر دنیوی رونق اور شہرت رکھتے ہیں ان میں دین داری کا کمال دکھانا ہے۔ دین میں اس قسم کی جسارت آدمی کو اللہ کے غضب کا مستحق بناتی ہے نہ کہ اللہ کا انعام کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues