جب اعمال اکارت ہو جائیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح پاک سے اس کی تائید کی۔ تو جب بھی کوئی رسول تمھارے پاس وہ چیز لے کر آیا جس کو تمھارا دل یں چاہتا تھا تو تم نے تکبر کیا۔ پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو مار ڈالا۔ اور یہود کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں۔ نہیں بلکہ اللہ نے ان کے انکار کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اس لئے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ اور جب آئی اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک کتاب جو سچا کرنے والی ہے اس کو جو ان کے پاس ہے اور وہ پہلے سے کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔ پھر جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو انھوں نے پہچان رکھا تھا تو انھوں نے اس کا انکار کر دیا۔ پس اللہ کی لعنت ہے انکار کرنے والوں پر کیسی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مول کیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اللہ کے اتارے ہوئے کلام کا اس ضد کی بنا پر کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اتارے۔ پس وہ غصہ پر غصہ کما کر لائے اور انکار کرنے والوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۹۰ - ۸۷ تورات اللہ کی کتاب تھی جو یہود پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک کی ہوگئی۔ قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طور پر یہود اب بھی اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انھوں نے ہٹا دیا تھا۔ حضرت موسیٰ کے بعد بار بار ان کے درمیان انبیاء اٹھے مثلاً یوشع نبی، داؤد نبی، زکریا نبی، یحییٰ نبی، وغیرہ۔ ان کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تھے۔ یہ تمام انبیاء یہود کو یہ نصیحت دینے کے لئے آئے کہ تورات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرو۔ مگر تورات کے تقدس پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ آواز ان کے لئے تمام آوازوں سے زیادہ ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ وہ خدا کے نبیوں کو نیکی ماننے سے انکار کرتے، حتیٰ کہ ان کو قتل کر ڈالتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے نام پر وہ جس زندگی کو اختیار کئے ہوئے تھے وہ حقیقتاً نفسانیت اور دنیا پرستی کی ایک نہ زندگی تھی جس کے اوپر انھوں نے خدا کی کتاب کا لیبل لگا لیا تھا۔ خدا کے نبی جب بے آمیز حق کی دعوت پیش کرتے تو ان کو نظر آتا کہ یہ دعوت ان کی مذہبی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ اب ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھتیں ۔ وہ نبیوں کے اعتراف کے بجائے ان کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتے۔ یہی معاملہ عرب کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ وہ اپنی کتابوں میں آخری رسول کی پیشین گوئی کو دیکھ کر کہتے کہ جب وہ نبی آئے گا تو ہم اس کے ساتھ مل کر کافروں اور مشرکوں کو زیر کریں گے۔ مگر ان کی یہ بات محض ایک جھوٹی تقریر تھی جو اپنے کو مذہب کا پاسبان ظاہر کرنے کے لئے وہ کرتے تھے۔ چنانچہ "وہ نبی" آیا تو ان کی حقیقت کھل گئی۔ ان کے جاہلی تعصبات اپنے گروہ سے باہر کے ایک نبی کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بن گئے۔ قرآن میں آپ کی صداقت کے بارے میں جو واضح دلائل دیئے جا رہے تھے، ان کے جواب سے وہ عاجز تھے۔ اس لئے وہ کہنے لگے کہ تمھاری ظاہر فریب باتوں سے متاثر ہو کر ہم اپنے اسلاف کا دین نہیں چھوڑ سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues