تنقید کبھی وہم کا نتیجہ ہوتی ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹
تنقید کبھی وہم کا نتیجہ ہوتی ہے
مولانا محمود حسن دیوبندی' لوجد وا فیہ اختلافا کثیرا (نساء ۸۲) کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں: اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ جو تدبر اور فہم سے کام نہ لے وہ قرآن میں شبہات اور اختلافات کا وہم چلا سکتا ہے۔ مگر فہم ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو قرآن کے اسی مقام میں جو تدبر نہ کرے وہ کہہ سکتا ہے کہ اول تو فرما دیا قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ الله (کہو کہ سب اللہ کی طرف سے ہے) پھر فرما دیا وما اصابك من سيئة فمن نفسك (اور جو تجھ کو برائی پہنچے سو وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے) سو یہ تو تناقض اور اختلاف ہو گیا (تفسیر قرآن صفحہ ۱۱)
جب لفظوں میں معرکے سر ہونے لگیں
پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو آنے والے آزادی کے انقلاب نے ملک کی قسمت بدل دی۔ اس جملہ کو ایک حقیقی واقعہ بنانے کے لئے طویل مدت تک بے حساب جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی سنجیدہ کوشش اور دیانت دارانہ عمل کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ جملہ آزادی کے ۳۲ سال بعد بھی واقعہ نہ بن سکا۔ مگر شاعر کو نہ صورت واقعہ سے بحث ہے اور نہ جدوجہد کی زحمت میں پڑنے کی ضرورت۔ دوہم قافیہ الفاظ کا مل جانا شاعر کو وہ سب کچھ دے دیتا ہے جس سے وہ اس عظیم واقعہ کو 'افاناً ظہور میں لاسکے۔ ایک اردو شاعرہ اگست کے مشاعرہ میں پڑھی جانے والی نظم میں کہتے ہیں: آج کے دن ہی غلامی کی کٹیں زنجیریں آج ہی پائی تھیں خوابوں نے حسیں تعبیریں مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بہت بڑی تعداد میں ایسے ماہرین انقلاب پیدا کئے ہیں جو الفاظ کے ذریعہ ہر روز بڑے بڑے معرکے سر کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انقلاب کے بعد بھی حالات نہ بدلیں اور مسائل ویسے ہی کے ویسے باقی رہیں جو انقلاب سے پہلے تھے۔
راجوری، پونچھ میں دینی کتابوں کا مرکز
قرآن، درسیات اور ہر قسم کی اسلامی کتابیں ہم سے حاصل کیجئے ۔ ماہنامہ الرساله دهلی اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تمام کتابیں بھی ہمارے یہاں ہر وقت ملتی ہیں۔ اقبال نیوز کارنر ۔ تھنہ منڈی ۔ راجوری IQBAL NEWS CORNER, THANNA MANDI, RAJOURI (Jammu)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues