Al-Risala · October 1979 · page 28

جب اعمال اکارت ہو جائیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸

اور یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی چیز پر نہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی چیز پر نہیں۔ اور وہ سب آسمانی کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا جن کے پاس علم نہیں، انہیں کا سا قول۔ پس اللہ قیامت کے دن اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے تھے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روکے کہ وہاں اللہ کے نام کی یاد کی جائے اور ان کو اجاڑنے کی کوشش کرے۔ ان کا حال تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسجدوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہوں۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بھاری سزا ہے۔ اور مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لئے ہے۔ تم جدھر رخ کرو اسی طرف اللہ ہے۔ یقیناً اللہ وسعت والا ہے، علم والا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ اسی کے حکم بردار ہیں سارے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ وہ جب کسی کام کا کرنا ٹھہرالیتا ہے تو بس اس کے لئے فرما دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے یہود نے نبیوں اور بزرگوں سے وابستگی کو حق کا معیار بنایا۔ اس وجہ سے ان کو اپنی قوم حق پر اور دوسری قومیں باطل پر نظر آئیں۔ نصاریٰ نے اپنے اندر یہ امتیاز دیکھا کہ اللہ نے اپنا "اکلوتا بیٹا"، ان کے پاس بھیجا۔ مکہ کے مشرکین اپنی یہ خصوصیت سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے پاسبان ہیں۔ اس طرح ہر گروہ نے اپنے حسب حال حق و صداقت کا ایک خود ساختہ معیار بنا رکھا تھا اور جب وہ اس معیار کی روشنی میں دیکھتا تولا محالہ اس کو اپنی ذات بر سر حق اور دوسروں کی ہر سر باطل نظر آتی۔ مگر ان کی عملی حالت جس چیز کا ثبوت دے رہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ گروہ گروہ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کسی کو جب بھی موقع ملتا، وہ عبادت کے لئے بنے ہوئے خدا کے گھر کو اپنے گروہ کے علاوہ دوسرے گروہ پر بند کر دیتا اور اس طرح خدا کے گھر کی ویرانی کا باعث بنتا۔ عبادت خانہ تو وہ مقام ہے جہاں انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور کانپتے ہوئے داخل ہو۔ اگر یہ لوگ واقعہ خدا والے ہوتے تو کیسے ممکن تھا کہ وہ عبادت کے لئے آنے والے کسی بندے کو روکیں یا اس کو ستائیں۔ وہ تو اللہ کی عظمت کے احساس سے دبے ہوئے ہوتے، پھر ان سے اس قسم کی سرکشی کا صدور کیوں کر ہو سکتا تھا۔

انھوں نے اللہ کو انسان کے اوپر قیاس کیا۔ ایک انسان اگر مشرق میں ہو تو اسی وقت وہ مغرب میں نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی اسی طرح کسی خاص سمت میں موجود ہے۔ یقیناً اللہ نے اپنی عبادت کے لئے رخ کا تعین کیا ہے مگر وہ عبادت کی عظیمی ضرورت کی بنا پر ہے نہ اس لئے کہ خدا اسی خاص رخ میں ملتا ہے۔ اسی طرح انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے انھوں نے خدا کا بیٹا فرض کر لیا۔ حالاں کہ خدا اس قسم کی چیزوں سے بلند و برتر ہے۔ جو لوگ اس طرح خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتائیں، ان کے لئے خدا کے یہاں رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page