اجتماعی زندگی کے آداب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳
اجتماعی زندگی کے آداب
مسلمان سب بھائی ہیں۔ تمھارے دو بھائیوں میں جھگڑا ہو تو ان میں صلح کرا دو اور اور سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اے ایمان والو نہ مرد دوسرے مردوں پر مہر نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اللہ نہ عورتیں دوسری عورتوں پر مہر نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو۔ اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ جو لوگ اس سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔ اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچو۔ کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو۔ کیا تمھارے اندر کوئی ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ اس کو تو تم ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (حجرات) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں جن رحمتوں کا وعدہ کیا ہے ، ان سب کا انحصار اس پر ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل جل کر رہ رہے ہوں اور اگر اتفاقی سبب سے دو مسلمانوں میں کوئی نزاع برپا ہو جائے تو سارے مسلمان اس کی اصلاح کے لئے اس طرح دوڑ پڑیں جیسے کوئی اپنے گھر میں آگ لگتی ہوئی دیکھتا ہے تو اس کو بجھانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے۔
اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ ان تمام چیزوں سے بچنے کا مکمل اہتمام کیا جائے جو میل ملاپ کی فضا کو بگاڑتی ہیں ____ کسی میں کوئی کمی نظر آئے تو لوگ اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ جب عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے تو آدمی کو ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہئے کہ کیا معلوم دوسرا شخص خدا کے نزدیک مجھ سے بہتر ہو۔ کوئی کسی کا کچھ کام بنا دے تو اس کو طعنہ نہ دینے لگے ، بلکہ یہ سمجھے کہ خدا نے ایک مسلمان کی مدد کے لئے اس کو ذریعہ بنایا ہے۔ کسی کو بدنام کرنے کے لئے اس کا نام نہ بگاڑو، ایمان کے ساتھ اس قسم کی روش جچ نہیں ہوتی۔ ناکافی معلومات کے ساتھ کسی سے بدگمانی ہو جائے تو آدمی اس کو دل میں رکھ نہ لے بلکہ تحقیق کرے یا اس کو دل سے نکال دے۔ کوئی کسی کا بھید جاننے کی کوشش نہ کرے۔ جس طرح آدمی اپنے بھید کو چھپانا پسند کرتا ہے اسی طرح اس کو پسند کرنا چاہئے کہ دوسرے کا بھید چھپارہے۔ کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ غیر موجود آدمی کا برائی کے ساتھ تذکرہ کرنا اس پر ایسی حالت میں حملہ کرنا ہے جب کہ وہ دفاع کے لئے موجود نہیں ہے۔ اس سے آدمی کے اندر پست اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں۔
ان تمام خرابیوں سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ خدا کا خوف ہے۔ آدمی کے اندر اگر اللہ کا خوف اور آخرت کا فکر پیدا ہو جائے تو گویا اس کے اندر سارے ضروری اوصاف پیدا ہو گئے۔ یہ احساس آدمی کی زندگی میں ایک قسم کا چوکیدار بن کر شامل ہو جاتا ہے۔ وہ ہر اس موقع پر آدمی کو روکتا ہے جب کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ بے انصافی کرنے جا رہا ہو یا بے انصافی کر سکتا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues