اجتماعی زندگی کے آداب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
حضرت محمد گیان | جب وقت حضرت محمد صاحب کے ظہور کا ہوا، ملک عرب میں بہت سی مذہبی، مجلسی اور اخلاقی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ انسانی زندگی کو لوگ کھلونوں کی طرح بے حقیقت سمجھتے تھے۔ ذرا سی بات پر کسی کی جان لے لینا ان کے لئے محض تماشا تھا۔ عورتوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا۔ ایک ایک مرد آٹھ آٹھ دس دس بلکہ اس سے بھی زیادہ شادیاں کر سکتا تھا۔ لڑکیوں کا پیدا ہونا بہت برا خیال کیا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو زندہ قبر میں دبا دیا جاتا تھا۔ غلاموں کی تجارت عام تھی۔ شراب خوری کی یہ حالت تھی کہ لوگوں کے گھروں میں گھڑے کے گھڑے بھرے رہتے تھے۔ لوگ شراب میں بدمست ہوکر بہت سی بے ہودہ کارروائیاں کرتے تھے۔ قمار بازی بہت زوروں پر تھی۔ بت پرستی کا یہ حال تھا کہ ہر ایک گھرانے اور خاندان میں علیحدہ علیحدہ بت موجود تھے۔
عرب کی اس افسوس ناک حالت کا نقشہ مولاناحالی صاحب نے اپنی مشہور نظم مسدس حالی میں خوب کھینچا ہے۔ جب عرب کی یہ حالت تھی تو ضروری تھا کہ اس کو دور کرنے کے لئے خداوند تعالیٰ کے اٹل قانون کے مطابق کوئی اس کا خاص بندہ آتا اور اس حالت کو دور کرتا۔
چنانچہ قریش قبیلے میں عبد المطلب کے بیٹے عبد اللہ کے ہاں ۲۹ اگست ۵۷۰ ء کو حضرت محمد صاحب پیدا ہوئے مگر افسوس کہ ان کے باپ ان کی پیدائش سے چند ماہ پیشتر ہی چوبیس برس کی عمر میں اس جہان سے چل بسے تھے، اور ان کے دادا عبد المطلب نے ان کی پرورش کا انتظام کیا۔ کچھ روز ان کی والدہ حضرت آمنہ نے انہیں اپنا دودھ پلایا پھر ان کو ایک دایہ حلیمہ نامی کے سپرد کر دیا۔ ابھی چھ سال کے ہونے نہ پائے تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اور کچھ عرصے بعد ان کے دادا بھی انتقال فرما گئے اب ان کی پرورش ان کے چچا ابو طالب کے ذمے ہوئی۔
ان میں شروع سے ہی غور و فکر کی عادت تھی۔ اکثر چپ چاپ بیٹھے زندگی کے مختلف مسائل سوچا کرتے تھے۔ ان کے چچا ان کا دل بہلانے اور کچھ کاروبار سکھلانے کی غرض سے، جب وہ تجارت کے سلسلے میں باہر جاتے تو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ قدرت نے ان کے اندر شروع سے ہی راست بازی اور دیانت داری کوٹ کوٹ کر بھردی تھی۔ بہت سے لوگ آکر ان سے اپنے جھگڑوں اور تنازعوں کا فیصلہ کراتے تھے۔ ان سفروں میں پہاڑوں اور سمندروں کے نظاروں نے ان کے دل پر خدا کی قدرت کا سکہ خوب بٹھا دیا۔
|٢|
جب ان کی عمر پچیس برس کی تھی۔ تو انہیں خدیجہ نامی ایک بیوہ نے ان کی شہرت اور دیانت داری کا حال سن کر بلا بھیجا اور بہت سا مال دے کر تجارت کی غرض سے یمن کی طرف بھیجا۔ انہیں چچا کے ساتھ رہتے رہتے تجارت کا کافی تجربہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے خدیجہ کے مال کو بہت نفع پر فروخت کیا۔ ان کو دو گنی تنخواہ پیش کی گئی۔ اور ان کی خوبیوں سے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues