Al-Risala · October 1979 · page 36

اجتماعی زندگی کے آداب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

مخالفتوں کی مطلق پرواہ نہ کی۔ خود حضرت صاحب کے چچا ابولہب اور اس کی بیوی ان کے سخت مخالف ہو گئے۔ اور انہیں طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے یہاں تک کہ جب وہ صبح کو منہ اندھیرے عبادت کے لئے جنگل میں جاتے تو چھی ان کے راستے میں کےنٹے بچھا دیتی اور ان کے پاؤں اور پنڈلیاں زخمی ہو جاتے۔ ایک دفعہ جب یہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک شخص نے ان کے گلے میں پٹہ ڈال کر گلا گھونٹنا چاہا۔ مگر حضرت ابوبکر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ان کی جان بچائی۔ جب وہ کھانا کھانے بیٹھتے تو لوگ ان کے کھانے میں کوڑا کرکٹ گرا دیتے۔ کئی دفعہ ان پر گندگی پھینک دیتے ۔ ان کی لڑکی کپڑوں پر پانی ڈالی جاتی اور روتی جاتی۔ مگر یہ کہتے، بیٹی کچھ پرواہ نہیں۔ خدا خود میری حفاظت کرے گا ۔ اسی طرح ان کے پیروؤں کو بھی لوگ طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے ، ان کو گرم ریت پر لٹا دیتے ۔ ان کی عورتوں کو ننگا کر کے بہت بے عزت کرتے۔ مگر یہ لوگ اعتقاد کے ایسے پکے تھے کہ ہر قسم کا دکھ اٹھا کر بھی اسلام کو نہ چھوڑتے اور ہر حالت میں خدا کا شکر کرتے۔

۴؀

قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان حبش کے علاقے میں چلے گئے۔ اور وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی کی پناہ لی لیکن وہاں بھی مخالفوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اور بادشاہ سے جا کر کہا کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔ اور ایک نیا دین نکالا ہے۔ جوا آپ کے دین کے بھی مخالف ہے۔ انہیں پناہ نہ دو۔ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر سب حال دریافت کیا۔ اور جب جعفر نے بادشاہ کو بتلایا کہ ہم لوگ پہلے جاہل تھے۔ بت پرستی کرتے تھے۔ گندی اور فحش باتیں بکتے تھے۔ لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے۔ شراب پیتے تھے۔ جو کھیلتے تھے۔ غرض قسم کی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ خدا نے ہمارے لئے رسول بھیجا۔ اور اس نے ہمیں نیکی کی طرف مائل کیا۔ یہ سن کر نجاشی کے دل پر بہت اچھا اثر ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ یہ میری پناہ میں آئے ہیں، میں انہیں یہاں سے نکال نہیں سکتا۔ یہ سن کر مخالفین اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے۔ مسلمانوں کے حبش میں چلے جانے کے بعد حضرت صاحب مکہ میں برابر وعظ کرتے تھے۔ اس اثنا میں دو زبردست ہستیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک تو خود ان کے چچا حمزہ جو بہت بارسوخ شخص تھے اور دوسرے عروہ بعد میں حضرت عمرؓ کہلائے۔ حضرت عمرؓ رضہ پہلے ان کے جانی دشمن تھے۔ اور تلوار گلے میں ڈال کر ان کے قتل کو نکلے تھے مگر قرآن شریف کی چند آیتیں سن کر ان کے پیرو بن گئے۔ اور چار یاروں میں شمار ہونے لگے۔ جب ان کا چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کی مخالفت اور بھی بڑھ گئی۔ انہوں نے مکہ چھوڑ کر طائف میں قیام کرنے کا ارادہ کیا مگر وہاں کے لوگ پہلے ہی ان کے مخالف تھے۔ جب ان کا وعظ سنا تو بہت برا فروختہ ہوئے۔ اور انہیں وہاں سے نکال دیا۔ مکہ والوں نے انہیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ مگر ایک شخص مطعم نامی نے لوگوں کو بہت لعنت ملامت کی اور کہا کہ میں محمد کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اس طرح وہ مکہ میں رہنے لگے۔ مگر شریر لوگ مخالفت سے کب باز آتے رہے۔ انہوں نے مطعم کو بھی تنگ کرنا شروع کر دیا۔ حضرت صاحب نے جب دیکھا کہ میری وجہ سے بے چارے مطعم کو بھی سخت تکلیف دی جاتی ہے تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں اب آپ کی پناہ میں رہنا نہیں چاہتا۔ خدا میرا محافظ ہے۔ جو ہوگا میں برداشت کروں گا۔ مجھے ہرگز گوارا نہیں کہ میرے سبب سے آپ کو تکلیف ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page